تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 693 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 693

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 02 اکتوبر 1970ء کر جتنا تیرا شکر ادا کرنا چاہئے تھا، اتنا ہم نے شکر ادا کر دیا اور اس کے مطابق ہم سے سلوک کر۔اور اپنے پیار میں اس کے مطابق زیادتی کرتا چلا جا۔تو یہ دعائیں کرو اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو۔نومبر تک چالیس فیصدی کے لحاظ سے موجودہ شکل میں دس لاکھ روپیہ نقد ہونا چاہئے۔اس وقت پانچ لاکھ سے اوپر ہے۔لیکن چونکہ کئی دوستوں نے اکٹھی رقم دے دی ہے، چالیسواں حصہ نہیں دیا۔اس واسطے عملاً بارہ لاکھ ہونا چاہئے۔بعض زمینداروں نے تو اپنے وعدے لکھوادیے ہیں اور بعض مجھے یقین ہے کہ بچائے اور اچھا کیا کہ انہوں نے ابھی وعدے نہیں لکھوائے۔ہوسکتا ہے کہ وہ پانچ سو نقد ادا کر دیں۔پھر اگلی فصل کا انتظار کریں، پھر اللہ تعالیٰ اس میں برکت ڈالے تو پانچ صدا ادا کر دیں۔بہر حال نومبر سے پہلے بارہ لاکھ کے قریب رقم آنی چاہئے۔وہ آپ یا درکھیں، خدا سے آپ نے وعدہ کیا ہے، اس کو پورا کریں۔اور جو یہ منصوبہ ہے، نصرت جہاں ریز روفنڈ کا یہ تو بنیاد ہے نا اس کے اوپر عمارت بنی ہے۔وہ اور چیز ہے۔اس کے اوپر عمارت بنی ہے ہمیں، چالیس ہسپتالوں کی۔اور اس کے اوپر عمارت بنی ہے،ستر ، اسی ، نوے، سونٹے ہائی سکولوں کی۔اور باہر کے ملکوں کی رقوم کو ابھی میں نے شامل نہیں کیا۔بہت سے عیسائی پیرا ماؤنٹ چیف ایسے ہیں، جنہوں نے لکھا ہے کہ زمین بھی ہم مفت دیں گے اور تعمیر بھی ہم مفت کر کے دیں گے۔(اور وہ ہمارے نام رجسٹری بھی کروا دیتے ہیں۔) آپ یہاں ڈاکٹر بھیجیں۔کیونکہ یہاں ڈاکٹروں کی بڑی ضرورت ہے۔ان کی قیمتوں کا تو اندازہ نہیں۔ہمارے ملک کے لحاظ سے لاکھ، لاکھ روپے کی وہ زمین اور عمارت ہے۔وہ ہم نے شمار نہیں کی۔ایسے ایسے وعدے ہیں، جو انہوں نے کئے ہیں۔اللہ تعالیٰ جب قبول کرتا ہے، اپنے بندہ کی عاجزانہ پیش کش کو تو اس کے دو نتیجے برآمد ہوتے ہیں۔ایک یہ کہ اس میں برکت پڑتی ہے اور دوسرے یہ کہ حاسد پیدا ہو جاتے ہیں۔حاسد بھی پیدا ہور ہے ہیں۔اور عیسائی ، بد مذہب، مشرک جو ہیں، وہ مائل بھی ہورہے ہیں۔تو قبولیت کے دونوں نتیجے جو نکلنے چاہئیں ، وہ نکل رہے ہیں۔لیکن ”لا فخر “۔ہمیں یہی تعلیم دی گئی ہے کہ ہمیں کوئی فخر نہیں ہے۔اپنی کوئی ذاتی خوبی نہیں ہے۔نہ مجھ میں ہے، نہ آپ میں ہے۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔تمام حسن و احسان کا وہی سر چشمہ ہے۔اس کا انعکاس کہیں زیادہ چمک کے ساتھ ظاہر ہو جاتا ہے، کہیں ذرامد ہم شکل میں انعکاس ہو جاتا ہے۔سب اسی کے سائے ہیں، بھی اس کے انعکاس ہیں۔اسی کی روشنی کی چہکار ہے۔تو تکبر اور غرور اور فخر اور ریا جیسے شیطانی وسوسے دل میں نہیں پیدا ہونے چاہئیں۔اللہ فضل کر رہا ہے، ہم اس کے عاجز بندے ہیں۔وہ فضل کرتا چلا جائے گا۔کیونکہ اس نے خود یہ کہا ہے کہ میں اس وقت تک جماعت احمد یہ پر 693