تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 692 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 692

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 02 اکتوبر 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم حضرت المصلح الموعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس وقت ساری جماعت سے اپیل کی تھی کہ پینتیس ہزار دوتو یہ کام ہو جائے گا۔یہ 1955ء کی بات ہے ، بڑی دور کی بات نہیں۔اللہ تعالیٰ نے پندرہ سال کے اندر اندر ساری جماعت پر اتنا فضل کیا ہے کہ ان کی دولت کو کہیں سے کہیں تک بڑھا دیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے یہ وعدہ بھی کیا گیا تھا کہ ان کے اموال میں برکت دوں گا۔ان کے اموال میں بڑی نمایاں برکت ہمیں نظر آئی۔مثال کے طور پر یہ جو نصرت جہاں ریزروفنڈ کا چندہ ہے، اس میں ایک آدمی تین گنے کا وعدہ کر کے ہمیں ہزار میں سے نقد بھی ادا کر دیتا ہے۔اور اخلاص میں بھی برکت پیدا ہوئی، ہمارے ملک کے لحاظ سے۔ہمارا ملک ایک غریب ملک ہے۔قریبا تین ہزار کا پانچ پانچ سور و پیر کا وعدہ کرنا اور اڑھائی ہزار کا دو، دو سور و پیہ نقد دے دینا، بڑی چیز ہے۔دنیا تو خدا کے نام پر ایک دھیلہ بھی نہیں دیتی۔اصل میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت جو اسلام کی خدمت ہو رہی ہے، وہ صرف احمدی کر رہے ہیں۔لیکن جماعت کے اندر ایک انقلاب عظیم ( میں اس کے نتائج نہیں بتا رہا) پیدا ہو گیا ہے۔ان کے اخلاص میں برکت اور مال میں برکت، اس کے نتائج میں برکت پیدا کر دی گئی۔کس کس نعمت کا تم شکر ادا کرو گے ؟ ایک ہی فضل ایسا ہوتا ہے کہ اگر انسان بچے طور پر سوچے تو اس نتیجہ پر پہنچتا ہے۔کہ خدا کے ایک فضل کے بعد اگر میں ساری عمر الحمد للہ پڑھتار ہوں تو شکر ادا نہیں کر سکتا۔یہاں تو فضل اتنے ہیں کہ گنے نہیں جا سکتے۔جو خدا کو نہیں پہچانتے ، ان پر جو اللہ تعالیٰ فضل نازل کرتا ہے، وہ بھی گنے نہیں جاسکتے۔تو جو اللہ تعالیٰ کو پہچانتے ہیں اور جن کو اللہ تعالیٰ نے جماعت میں داخل ہونے کی توفیق دی ہے، ان پر جو فضل ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کے نہ پہچاننے والوں کے مقابلہ میں اتنے ہیں کہ وہ گنے نہیں جاسکتے۔ہمارا تو دماغ چکرا جاتا ہے، جب ہم یہ سوچتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے کتنے فضل ہیں ؟ انسانی ذہن کو یہ طاقت ہی نہیں دی گئی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا احاطہ کر سکے۔یہ سچائی ہے، اس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔تو جتنازیادہ سے زیادہ طاقت میں ہے، خدا کی حمد کرنا ، اس کا شکر کرنا، اتنی حمد اور شکر کرو۔پھر عاجزی کے ساتھ اپنے رب کریم سے کہو کہ تو نے جتنی طاقت ہمیں دی، اس کے مطابق جتنا ہم شکر کر چکے، وہ ہم تیرے حضور پیش کرتے ہیں۔تو نے وعدہ کیا ہے کہ اگر تم شکر کرو گے تو میں اور دوں گا۔اگر ہم میں کمیاں رہ گئیں ہیں، کیونکہ ہم تیرے عاجز بندے ہیں تو تو ہمیں معاف کر اور تو ہمارے تھوڑے شکر کو بہت سمجھ اور ہمارے دماغ کو صحت مند کر، کیونکہ دماغی بیماریاں بھی ہوتی ہیں۔اور ہمارے اخلاص کی کمی کو نظر انداز کر دے۔اے ہمارے خدا! ایسا سمجھ لے اپنے فضل سے کہ واقعہ میں اپنی طاقتوں کو مد نظر رکھ 692