تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 686
خطبہ جمعہ فرموده 11 ستمبر 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم سامان پیدا کرنے والے ذرائع استعمال کرتے ہیں۔اب ہم تو عاجز اور کمزور ہیں، اس میں کوئی شکو نہیں۔ہم برملا کہتے ہیں، ہم بے سہارا ہیں، کوئی سیاسی اقتدار نہیں۔( اور نہ اس کی خواہش ہے۔ہمارے پاس اتنا مال و دولت نہیں کہ امریکہ کے روپے کی طرح لوگوں کو خاموش کرنے یا اپنے حق میں زبانیں کھلوانے کے لئے تقسیم کر دیں۔لیکن اگر یہ حقیقت ہے اور ہمارے نزدیک یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو غلبہ اسلام کے لئے پیدا کیا ہے اور وہ ہم سے یہی کام لینا چاہتا ہے تو جو بھی جماعت کے خلاف منصوبہ بنائے گا، اگر وہ اس میں کامیاب ہو جائے تو غلبہ اسلام کی جو عظیم مہم جاری ہے، اس میں کمزوری پیدا ہو جائے گی۔اور اللہ تعالیٰ اسے پسند نہیں کر سکتا کیونکہ یہ کی مشیت کے خلاف ہے کہ شیطانی طاقتیں کامیابی کا منہ دیکھیں۔پس حسد کے نتیجہ میں جماعت احمدیہ کی Activities یعنی اس کی سرگرمیوں اور منصوبوں میں انشاء اللہ تعالیٰ کوئی کمزوری نہیں پیدا ہو سکتی۔لیکن حسدا اپنی جگہ پر مسیح ہے اور اس کے مقابلے میں تدبیر کرنا ضروری ہے۔اور ہمارے ہاتھ میں ایک ہی ہتھیار ہے اور وہ ہے دعا کی تدبیر۔اس واسطے میں جماعت کو یہ یاد دہانی کرانا چاہتا ہوں کہ اپنی عاجزی کا اپنے اندر پورا احساس پیدا کرتے ہوئے ، نہایت انکساری کے ساتھ اپنے رب کے حضور جھکیں اور اپنے مولا سے یہ عرض کریں کہ تو نے ہمیں غلبہ اسلام کے لئے پیدا کیا اور تو نے نہیں یہ توفیق دی کہ ہم تیری راہ میں تیرے ہی دیئے ہوئے مال میں سے کچھ پیش کر سکیں تا کہ تیرا جوارادہ ہے، وہ اس دنیا میں پورا ہو۔اسلام غالب ہو اور خدا کرے، جلد غالب ہو۔لیکن تیرے اپنے بنائے ہوئے قانون اور تیری اپنی دی ہوئی بشارت اور پیشگوئی کے مطابق حاسد پیدا ہورہے ہیں۔وہ ہم سے زیادہ طاقتور ہیں، مادی سامانوں کے لحاظ سے، وہ ہم سے امیر ہیں، دنیوی دولت کے لحاظ سے ، وہ ہم سے زیادہ طاقتور ہیں، اپنے جتھے کی کثرت کے لحاظ سے۔لیکن دنیا کی ساری دولتیں اور دنیا کے سارے اقتدار اور دنیا کی ساری طاقتیں تیرے ارادہ کے مقابلے میں کھڑی نہیں ہوسکتیں۔ہمیں اپنی کمزوریوں کا اعتراف ہے۔ہم تیرے عاجز بندے ہیں، ہم خطائیں بھی کرتے ہیں مگر تیری طرف ہی آتے ہیں، تیری طرف ہی رجوع کرتے ہیں اور تو بہ واستغفار بھی کرتے ہیں تو ہمارے گناہ بخش دے اور ہماری کمزوریوں کو دور کر دے اور ان حاسدوں کو ان کے ارادوں میں نا کام کر۔پس دعائیں کریں۔اللہ تعالی بڑا پیار کرنے والا اور دعائیں قبول کرنے والا ہے۔انفرادی طور پر قربانیاں دینے والے موجود ہونے چاہئیں۔اجتماعی طور پر جماعت اس مقام پر کھڑی ہونی چاہئے کہ حاسدوں کا حسد کچھ نہ کر سکے اور طاقتور کی طاقت ہمارے خلاف کامیاب نہ ہو سکے۔686