تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 685 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 685

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم خطبه جمعه فرموده ۱۱ ستمبر 1970ء اسے اس دنیا سے اٹھانا چاہے تو ساری دنیامل کر بھی اگر اسے زندہ رکھنا چاہے تو اسے زندہ نہیں رکھ سکتی۔اس واسطے کسی شخص کا اس قسم کے منصوبے بنانا، اس کی اپنی نالائقی یا ہلاکت کے سامان تو پیدا کر سکتا ہے۔لیکن اللہ تعالی کی منشاء کے بغیر کسی کی جان نہیں لی جاسکتی۔سید الانبیاء، حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے تھے، کمزور تھے ، غریب تھے ، بے کس تھے اور سرداران مکہ اپنے آپ کو دنیا کے معیار کے مطابق بہت بڑا بلکہ فراعنہ مصر سمجھتے تھے۔ان میں سے ہر ایک سمجھتا تھا کہ میں فرعون ہوں۔اور سال ہا سال تک انہوں نے اپنی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بہت کوششیں کیں۔مگر آپ کا کچھ بگاڑ نہیں سکے۔البتہ اپنی ہلاکت کے سامان پیدا کر لئے۔جس شخص کو مکہ میں فنا کرنا چاہتے تھے ، اس شخص کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ کے فضل سے مکہ فتح ہوا۔اور اس فتح مکہ کی شان یہ تھی کہ ان سرداروں نے حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کے نیچے جمع ہو کر پناہ نہیں لی۔کیونکہ آپ کا اعلان یہ تھا کہ بلال کے جھنڈے کے نیچے جمع ہو جاؤ۔آپ نے انہیں ایک افریقن کے جھنڈے کے نیچے پناہ دلوائی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعہ ان سرداروں سے ایک حسین انتقام لیا۔پس اس قسم کے منصوبے تو ایسے وقت میں ضرور بنا کرتے ہیں۔دنیا کی تاریخ دیکھ کر ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی جو ترقیات ہیں، بعض لوگوں کو ان کے خلاف حسد پیدا ہوتا ہے اور بعض کو ان کے خلاف حسد نہیں پیدا ہوتا۔لیکن جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے فضل نازل ہوتے ہیں تو یہ ہوہی نہیں سکتا کہ حسد پیدا نہ ہو۔آپ دنیا کی تاریخ پڑھ کر دیکھ لیں، حسد ضرور پیدا ہوتا ہے۔اور پھر اس کی اطلاع تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہانا بھی دی گئی ہے۔اب جو مخالف اسلام ہے، ( میں احمدیت اس لئے نہیں کہہ رہا کہ ہمارے نزدیک احمدیت اور اسلام ایک ہی چیز کا نام ہے۔) وہ اپنے ان منصوبوں سے اسلام کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔یہ واضح بات ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آسمان پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ اسلام کے از سر نو غلبہ کے دن آگئے ہیں اور اسلام غالب آئے گا۔ہمیں کمزور کرنے کا ہر منصوبہ حقیقتاً اسلام کو کمزور کرنے کا منصوبہ ہے۔کیونکہ ہمیں ہی اللہ تعالیٰ نے اپنی قادرانہ انگلیوں کے درمیان پکڑا اور فرمایا کہ میں اس عاجز ، کمزور اور بے کس جماعت سے کام لوں گا اور ان کے ذریعہ سے میری قدرت دنیا کے سامنے جلوہ گر ہوگی۔پس جب اللہ تعالیٰ کا فضل نازل ہوتا ہے تو حاسد ضرور پیدا ہو جاتے ہیں۔جب حاسد پیدا ہوتے ہیں تو وہ معقول ذرائع سے اپنے حسد کا اظہار نہیں کرتے۔بلکہ غیر معقول اور اپنی ہی تباہی کے 685