تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 665
تحر یک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطاب فرموده 30 اگست 1970ء نہیں کہ بظاہر مذہبی لحاظ سے بڑے پکے ہیں اور ہمارے بڑے مخالف ہیں۔اب نائیجریا کے نئے دستور کے مطابق مسلم نارتھ کئی سٹیٹس میں تقسیم ہو گیا ہے، کئی ریاستیں بنادی گئی ہیں۔جب ہم شروع میں نائیجریا میں گئے ہیں تو ہماری تمام تر توجہ ویسٹ اور ایسٹ نائیجریا میں تھی۔نارتھ میں وہ ہمیں گھنے نہیں دیتے تھے، اس لئے وہاں ہماری جماعت تو کیا ایک آدمی بھی احمدی نہیں تھا۔پھر اللہ تعالیٰ کے فرشتوں نے وہاں ایسا انتظام کیا کہ کانو کی سٹیٹ، جو اس مسلم نارتھ کا ایک حصہ ہے۔وہاں غالباً 1958 ء ، 1959 ء ، 1960ء میں ہم داخل ہوئے ، پہلے وہاں ایک، دو احمد کی ہوئے ، جو مسلم نارتھ کے رہنے والے تھے اور دوسری جگہوں پر رہتے تھے۔پھر وہ بڑھنے شروع ہوئے۔اب خدا تعالیٰ کے فضل سے وہاں جماعت قائم ہو گئی ہے۔پھر میڈیکل سنٹر کھلا، جماعت اور بھی زیادہ مقبول ہو گئی۔امیر آف کانو، جو عثمان بن فودی کی نسل میں سے ہیں ( یعنی عثمان بن فودی کے ایک بیٹے سلیمان کی نسل میں سے ہیں۔) اور امیر آف کا نو کہلاتے ہیں، وہ ہمارے ساتھ تعاون بہت کرتے ہیں۔دوسری طرف سکو تو جہاں عثمان بن فودی کا لڑ کا خلیفہ بنا، وہاں ابھی تک ہماری کوئی جماعت نہیں۔چنانچہ جب سکوتو کے گورنر نے اعلان کیا کہ ان کی سٹیٹ تعلیم میں بہت پیچھے ہے تو میں نے کہلا بھیجا کہ ہم فوری طور پر چار سکول کھولتے ہیں، جس پر اس نے پورے تعاون کا یقین دلایا۔اب یہ ہماری کوشش کا نتیجہ نہیں بلکہ فرشتوں نے اس کے دل میں یہ بات ڈالی اور وہ کہنے لگا کہ اگر آپ سکو تو کے علاقے میں اپنی محبت پیدا کرلیں اور ان کے دل جیت لیں تو آپ سارے مسلم نارتھ کا دل جیت لیں گے۔کیونکہ سکو تو مسلم نارتھ کا دل ہے۔(اس لحاظ سے کہ یہیں عثمان بن فودی پیدا ہوئے اور ان کی آگے نسل چلی ہے۔) اور یہ کہ میں آپ سے پورا تعاون کروں گا۔چنانچہ اس نے ایک سکول کے لئے چالیس ایکڑ زمین دلوا دی ہے اور مزید تین سکولوں کے لئے دلوا دیں گے۔اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ غیروں کے دلوں میں بھی احمدیت کے حق میں ایک رو پیدا ہو رہی ہے۔اور یہ کام پورے نہیں ہو سکتے ، جب تک یہاں سے ڈاکٹر اور ٹیچر رضا کارانہ طور پر کام کرنے کے لئے نہ جائیں۔ہمیں اس وقت زیادہ تر ڈاکٹروں کی ضرورت ہے۔ٹیچر ز تو ضرورت سے زیادہ آگئے ہیں۔یورپ میں ہمارے کئی افریقن احمدی زیرتعلیم ہیں۔زیادہ تر سکالرشپ پر آئے ہوئے ہیں۔کیونکہ افریقہ میں بہت کم لوگ امیر ہیں۔بعض دفعہ ان کے لڑکے پڑھائی میں اچھے نہیں ہوتے۔بہر حال ہمارے افریقن طلباء یورپ میں آکر بڑی تبلیغ بھی کرتے ہیں۔یوں لگتا ہے کہ وہ احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے عاشق ہیں۔یورپ میں جب میں دونوں دفعہ گیا ہوں تو وہاں بھی مجھے ملتے رہے ہیں۔میں نے ان میں بڑا 665