تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 654
اقتباس از خطاب فرمودہ 30 اگست 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم خیال میں اتنے بجٹ میں سے غیر ممالک میں خرچ کرنے کے لئے بمشکل 30-25 ہزار روپیہ ہوگا۔اور یہ بھی حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے ذریعہ اللہ کا ایک بہت بڑا معجزہ ہم نے دیکھا ہے کہ اس کے باوجود احمدیت کو شاندار ترقیات عطا ہوتی رہی ہیں۔1945 ء تک اگر چہ غیر ممالک میں جماعتیں تو قائم ہو چکی تھیں۔لیکن انہیں ابھی چندہ دینے کی عادت نہیں پڑی تھی۔اس لئے یہیں سے خرچ ہوتا رہا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ہمارے بعض بڑے بزرگ لوگوں نے چار آنے چندہ دیا، آپ نے ان کا نام اپنی کتابوں میں لکھ دیا، جس کے نتیجہ میں ان کو قیامت تک جماعت کی دعاؤں کی وجہ سے بھی ثواب ملتا رہے گا۔مگر چندہ ان میں سے کسی کا چار آنے کسی کا آٹھ آنے اور کسی کا ایک روپیہ ماہوار تھا اور ان کا نام لکھ کر انہیں اس لئے اہمیت دی گئی کہ اس وقت امت مسلمہ اسلام کی راہ میں ایک دھیلہ خرچ کرنے کے لئے تیار نہیں تھی۔چنانچہ ان کی اس پہلی عادت کے مقابلے میں 4 آنے دینا واقعی بڑی بات تھی۔پھر ایک وقت آیا کہ انہوں نے خدا کی راہ میں اسلام کی سربلندی کے لئے اپنی ہر چیز قربان کر دی۔مجھے پتہ ہے اور میں آپ کو علی وجہ البصیرت بتارہا ہوں کہ ایک شخص جو قادیان میں شروع زمانے میں بڑے اخلاص سے کام کرتا تھا اور جسے پانچ روپے ماہوار گزارہ ملتا تھا اور اس کے چھ ، سات لڑکے تھے۔چنانچہ اب ایک ایک لڑکے کو تین تین، چار چار ہزار روپے ماہوار آمد ہوتی رہی ہے۔پس اللہ تعالیٰ تو اس دنیا میں بھی کسی کا قرض نہیں چھوڑتا۔البتہ قربانی ضرور لیتا ہے تا کہ وہ آزمائش کرے کہ کون اپنے عہد میں پکا ہے اور کون کمزور اور ٹوٹنے والا ہے؟ لیکن یہ کہ وہ ہمیں اس دنیا میں چھوڑ دے، یہ نہیں ہوسکتا۔شروع میں تحریک جدید کا شاید لاکھ یا ڈیڑھ لاکھ روپیہ جمع ہوا تھا۔لیکن اب میں نے انگلستان میں جب نصرت جہاں ریزروفنڈ کی تحریک کی تو پونے گھنٹے کے قریب میں پہلے دن اپنے بھائیوں کے ساتھ مسجد میں بیٹھا ہوں اور اس وقت میرے خیال میں انگلستان کی ساری احمدی آبادی کا پانچواں یا ساتواں حصہ جمع تھا۔سارے احباب تو ویسے بھی آنہیں سکتے۔کیونکہ دور دراز علاقوں یا شہروں میں رہتے ہیں۔کسی کو چھٹی نہیں ملتی۔اس پونے گھنٹے میں سترہ ہزار سے زیادہ کے وعدے ہو گئے تھے۔اور پھر دوبارہ اتوار کے روز ایک گھنٹے کے قریب میں ان میں دوبارہ بیٹھا ہوں، جس کے نتیجہ میں یہ وعدے 32 ہزار پونڈ تک پہنچ گئے۔اور جب میں وہاں سے روانہ ہوا ہوں تو 40 ہزار کے وعدے ہو گئے تھے۔پس کجاوہ زمانہ کہ بار بار تحریک کی گئی اور سارے سال میں لاکھ، ڈیڑھ لاکھ روپے اور کجا یہ کہ ڈیڑھ، دو گھنٹے میں 40 ہزار پونڈ یعنی نو لاکھ روپے کے قریب وعدے ہو گئے۔654