تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 652 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 652

اقتباس از خطاب فرموده 30 اگست 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم نے نصرت جہاں ریزروفنڈ کا لندن میں اعلان کیا تھا۔اس سلسلہ میں ہم نے بنک میں اکاؤنٹ کھلوانا تھا۔بنک کے منیجر کے ساتھ ہمارے تعلقات تھے، ہمیں اس سلسلہ میں بنک میں نہیں جانا پڑا۔وہ منیجر خود ہی ہماری مسجد میں آگئے تھے۔تا کہ جو کمیٹی بنائی گئی تھی، اس کے دستخط وغیرہ لے لیں۔ان سے میں نے یہ بات کی کہ اس طرح میں نے ڈاکٹروں سے کہا ہے۔چنانچہ اس پر انہوں نے بڑے قہقہے لگائے کہ آپ نے ان کو خوب جکڑا ہے یا خود وقف کر دیا میں حکم دوں گا اور تمہیں اس کی پابندی کرنی پڑے گی۔ہماری اس سکیم کا اس وقت جو یہاں مخالفانہ رد عمل ہوا ہے، وہ بہت دلچسپ ہے۔اور آپ سن کر خوش ہوں گے۔اس وقت تک میری ایک source سے یہ رپورٹ ہے۔البتہ کئی طرف سے رپورٹ آئے تو اسے میں پختہ سمجھتا ہوں۔بہر حال ایک source کی یہ رپورٹ ہے کہ جماعت اسلامی کی مجلس عاملہ نے یہ ریزولیوشن پاس کیا ہے کہ ویسٹ افریقہ میں احمدیت اتنی مضبوط ہو چکی ہے کہ وہاں ہم ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔اس واسطے پاکستان میں ان کو کچل دو۔تا کہ ان کی سرگرمیوں پر اس کا اثر پڑے اور جماعت کمزور ہو جائے۔بالفاظ دیگر جو ہمارا حملہ وہاں عیسائیت اور شرک کے خلاف ہے، اسے کمزور کرنے کے لئے لوگ یہاں سکیم سوچ رہے ہیں۔ویسے وہ تلوار اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے کسی مخالف کو نہیں دی، جو جماعت کی گردن کو کاٹ سکے۔باقی افراد کو تو بڑی سے بڑی قربانی دینی پڑتی ہے۔دو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے بڑے زبر دست وعدے دیئے ہیں۔جن کے متعلق ایک زاویہ نگاہ یہ بھی ہے کہ اتنے ہی زبر دست وعدے دیئے ہیں، جو صحابہ کو دیئے گئے تھے۔اس وجہ سے بھی آپ نے فرمایا ہے کہ صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا امت محمدیہ کے پہلے حصے کو جو وعدے دیئے گئے تھے ، وہی وعدے اب امت محمدیہ کے اس حصے کو بھی دیئے گئے۔جماعت احمدیہ نے اپنے اسی سالہ دور میں ان وعدوں کو پورے ہوتے دیکھا۔ہزار مخالفت ہوئی اور ہزار مخالفت نے ناکامی کا منہ دیکھا۔میں اپنے نو جوانوں کو کہتا ہوں کے کیا تم یہ نہیں دیکھتے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ گنتی کے چند آدمی بھی نہیں تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خود ایک جگہ یہ تحریر فرمایا ہے کہ اس وقت جب کہ کسی ایک آدمی نے بھی میری بیعت نہیں کی تھی ، البتہ میرے چند دوست تھے ) اس وقت مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور مولوی نذیرحسین صاحب دہلوی نے دو سو چوٹی کے مولویوں کو اپنے ساتھ ملا کر کفر کا فتویٰ دیا اور آپ کو واجب القتل ٹھرایا اور 652