تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 49 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 49

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرموده 25 مارچ 1966 ء ضرور کامیاب ہوگی۔تمہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں۔بے شک مشکل بڑی ہے اور کام اس نوعیت کا ہے کہ عقل انسانی بظاہر یہ فیصلہ نہیں دے سکتی کہ اس میں ضرور کامیابی حاصل ہوگی۔لیکن خدا تعالیٰ کا جو وعدہ ہے، وہ پورا ہوگا۔اس لئے ہم تمہیں ہدایت دیتے ہیں کہ جس وقت یہ دیوار تمہارے سامنے آجائے اور تم کومحسوس ہونے لگے کہ آگے بڑھنے کا راستہ مسدود ہو گیا ہے اور ان اقوام کے دلوں کو فتح کرنا بظاہر ناممکن ہے۔یادر کھو کہ اس وقت صبر اور صلوٰۃ کے ساتھ میری مدد اور نصرت کو حاصل کرنے کی کوشش کرنا۔صبر کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ انسان استقلال کے ساتھ برائیوں سے بچنے کی کوشش کرتا رہے۔یعنی اسے اپنے نفس پر اتنا قابو ہو کہ وہ کبھی بے قابو ہو کر گناہ کی طرف مائل نہ ہو۔دوسرے معنی یہ ہیں کہ انسان نیکی پر ثابت قدم رہے اور دنیا کی کوئی طاقت، دنیا کا کوئی وسوسہ اور دنیا کا کوئی دجل صدق کے مقام سے مومن کا قدم پرے نہ ہٹا سکے۔اور صبر کے تیسرے معنی یہ ہیں کہ جب کوئی نازک وقت اور مشکل پیش آئے اور دل میں شکوہ پیدا ہو تو وہ اسے خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کرے۔اِنَّمَا أَشْكُوابَتِي وَحُزْنِ إِلَى اللَّهِ یوسف ع ۱۰) یعنی اگر تم ایسا کروگے تو وہ تمہاری امداد اور نصرت کے سامان پیدا کرے گا۔پس اللہ تعالی فرماتا ہے کہ اس میں شک نہیں کہ ہم نے تمہیں مادی سامان بہت کم دیئے ہیں۔لیکن جتنا بھی تمہیں ملا ہے، مال کے لحاظ سے، طاقت کے لحاظ سے، وقت کے لحاظ سے عزت کے لحاظ سے کروڑوں نعمتیں ہیں، جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کی ہیں۔) جو کچھ بھی ہماری نعماء سے تمہیں ملا ہے، اگر تم اس کا صحیح استعمال کرو اور قربانی کے ان تقاضوں کو پورا کرو، جو تم پر عائد ہوتے ہیں اور کبھی اپنی نگاہ میری ذات سے ہٹا کر کسی اور کی طرف نہ لے جاؤ بلکہ اپنی کمزوری، ناتوانی، بے بضاعتی اور بے بسی کا رونا صرف میرے سامنے ہی ردو اور خوشی کے ساتھ نیکیوں پر قائم ہو جاؤ اور جو تدابیر بھی تم کر سکتے ہو، ان تدابیر کو اپنے کمال تک پہنچاؤ تو میں تمہاری مدد اور نصرت کے سامان کر دوں گا۔پھر صلوۃ ہے۔اس کے ایک معنی تو اس نماز کے ہیں، جو ہم پنجوقتہ ادا کرتے ہیں۔پھر کچھ سنتیں ہیں، کچھ نوافل ہیں۔( جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ توفیق دیتا ہے، وہ نوافل بھی ادا کرتے ہیں۔یہ سارے معنی صلوٰۃ کے لفظ میں آ جاتے ہیں۔پس صلوٰۃ کے ایک معنی اس خاص عبادت کے ہیں، جو اسلام میں ایک مسلمان کے لیے لازم کی گئی ہے۔پھر صلوۃ کے ایک معنی رحمت کے ہیں اور ان معنوں میں یہ لفظ خدا تعالیٰ کے لئے استعمال ہوتا ہے۔صلی اللہ “ کے معنی ہیں، اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے نوازے، ہمارے کاموں 49