تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 48 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 48

خطبه جمعه فرمودہ 25 مارچ 1966ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم پرانی ہیں۔کچھ تو ہمات ہیں، کچھ ڈھکوسلے ہیں، جن کو انہوں نے مذہب کا نام دے رکھا ہے۔بہر حال وہ ایک قسم کا مذہب رکھتے ہیں، اس لئے ہم انہیں لامذہب نہیں کہہ سکتے اور نہ صیح طور پر ان کے مذہب کو ”مذہب“ کہہ سکتے ہیں۔ان کے مذہب کو بگڑے ہوئے مذہب کا نام بھی نہیں دیا جا سکتا۔اور بہترین لفظ ، جوان کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے، وہ بد مذہب ہے۔یہ لوگ اپنی رسومات میں اور اپنے تو ہمات میں اس قدر مست ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کا نام سننے کے لئے بھی تیار نہیں۔ان کی ان عادات کو چھڑانا اور بد رسومات سے انہیں بچانا، آسان کام نہیں۔ہم اپنی جماعت میں بھی دیکھتے ہیں کہ بعض خاندان، جو احمدیت میں داخل ہوتے ہیں ، وہ کچھ بد رسوم بھی اپنے ساتھ لے آتے ہیں اور ہمارے لئے ایک مسئلہ بن جاتے ہیں۔ہمیں انہیں ان بدرسوم سے ہٹانے کے لئے بڑا زور لگانا پڑتا ہے۔لیکن ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ ہم ان اقوام میں بھی اسلام کی تبلیغ کر کے اور کامیاب تبلیغ کر کے انہیں اس نور سے متعارف کرائیں گے، جو خدا تعالیٰ کا حقیقی نور ہے۔جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے آئینہ میں عکسی رنگ میں چکا ہے۔غرض کتنا بڑا دعویٰ ہے، جو ہم کرتے ہیں۔اور کتنا مشکل کام ہے، جو ہم نے اپنے ذمہ لیا ہے۔اور جب ہم اپنے اس دعویٰ اور کام پر اس تفصیل کے ساتھ غور کرتے ہیں، جس کی طرف میں نے مختصرا اشارہ کیا ہے تو دل بیٹھنے لگتا ہے۔اور عقل حیران ہو جاتی ہے کہ یہ کام ہوگا تو کس طرح ہوگا؟ اس کے لئے ہمیں پھر اپنے رب کی طرف ہی رجوع کرنا پڑتا ہے۔ہمیں اس کے کلام کو ہی دیکھنا پڑتا ہے۔چنانچہ اس معاملہ میں جب میں نے غور کیا تو اس مشکل کا حل مجھے سورۃ بقرہ کی اس آیت میں نظر آیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔ياَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوةِ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّبِرِينَ (بقره ع ۱۹ ) یعنی اے میرے مومن بندو! جو اس بات پر ایمان رکھتے ہو کہ میں خدائے قادر و توانا ہوں۔اور اپنی تمام صفات حسنہ کے ساتھ اپنی تمام قدرتوں کے ساتھ اور اپنے جلال کے ساتھ ہمیشہ زندہ رہنے والا اور زندہ رکھنے والا حیسی و قیوم خدا ہوں۔جو اس بات پر ایمان رکھتے ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کی تمام اقوام کے لئے اور قیامت تک ہر زمانہ کے لئے نجات دہندہ کی شکل میں بھیجے گئے ہیں۔جو اس بات پر ایمان رکھتے ہو کہ قرآن کریم انسان کے تمام دینی اور دنیوی مسائل کو حل کرتا ہے۔جو اس بات پر ایمان لاتے ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے ہی مبعوث فرمایا ہے۔جو ایمان لاتے ہو کہ جس مقصد کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث کئے گئے ہیں، اس مقصد میں آپ اور آپ کی جماعت 48