تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 630
خطبہ جمعہ فرمودہ 28 اگست 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم وہ سوچ کچھ رہے ہوں گے، اگر وہ اپنے دعوئی میں بچے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے علم میں کوئی اور چیز ہے، وہ سمجھتے ہوں گے کہ ہماری اتنی بڑی طاقت ہے کہ دنیا کی دو بڑی طاقتوں میں ہم شمار ہوتے ہیں، سارے منصوبے ضرور کامیاب ہوں گے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم جو مرضی سوچتے رہو، اپنی جتنی طاقت سمجھو، میرے مقابلے میں تمہاری کوئی طاقت نہیں۔ہوگا وہی، جس کا میں ارادہ کروں گا۔اور جو میں تمہیں غیب کے متعلق بتاتا ہوں ، وہ پورا ہوگا۔تمہاری تمام کوششیں نا کام ہو جائیں گی۔نہ تم آسمان سے خدا کے وجود کو مٹا سکو گے، نہ اللہ کے نیک بندوں کے دل سے اس کے نام اور پیار اور محبت اور عشق کو مٹا سکو گے۔اور احمدیت کے ذریعے تمہاری قوم کے دل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جیتے جائیں گے۔اور ایک، دو کے نہیں، جیسا کہ کمیونسٹ ملکوں میں واقع ہو چکا ہے، وہاں احمد یہ جماعتیں قائم ہورہی ہیں۔غرض اتنی کثرت سے جیتے جائیں گے کہ اگر تمہارے ملک کے ریت کے ذروں کو شمار نہیں کیا جا سکتا تو اسی طرح احمدی مسلمانوں کو بھی شمار نہیں کیا جاسکے گا۔جس کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری بڑی بھاری اکثریت تمہارے دعوؤں کے ہوتے ہوئے اور تمہاری کوششوں کے باوجود اللہ تعالیٰ کو پہچانے گی، اس کی معرفت حاصل کرے گی اور اس کے فضلوں کی وارث بنے گی۔ہمارے لئے یہ آئندہ کے متعلق غیب ہے۔اور جس طرح ہمیں یہ یقین ہے کہ اس وقت سورج | چمک رہا ہے اور دن ہے۔جس طرح ماں اور باپ کو یہ یقین ہے کہ ان کے ایک، دو، تین، چار یا جتنے بھی خدا نے بچے دیئے ہیں اور زندہ ہیں، مرے ہوئے نہیں ہیں۔جس طرح خاوند کو یہ یقین ہے کہ اس کی ایک بیوی بھی ہے اور جس طرح بیوی اس یقین پر قائم ہوتی ہے کہ اس کا ایک خاوند بھی ہے، ہر ایک احمدی کو اس سے بھی زیادہ یقین پر قائم ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سے جو غیب کے متعلق وعدے کئے ہیں، وہ انشاء اللہ ضرور پورے ہوں گے۔ساری دنیا کی طاقتیں مل کر بھی اللہ تعالیٰ کے ارادے میں روک نہیں بن سکتیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں صرف یہ نہیں فرمایا کہ اپنے ایمانوں کو پختہ کرو، الہی بشارتوں کے متعلق یہ یقین رکھو کہ وہ پوری ہوں گی۔کیونکہ آسمان اور زمین کے خدا نے ایسا کرنے کا ارادہ کیا ہے۔بلکہ آپ کے دل میں الہی وعدوں پر بھی نہایت پختہ یقین تھا اور آپ اپنی جماعت میں بھی اس یقین کو پختہ کرنا چاہتے تھے۔صرف یہ نہیں کہا کہ دشمن ایذاد ہی کرتا ہے، گندہ دہنی سے کام لیتا ہے، کراہت کی نظر سے دیکھتا ہے، ہلاکت کے منصوبے بناتا ہے لیکن کامیاب نہیں ہوگا۔بلکہ مخالف کو مخاطب کر کے یہ بھی کہا کہ میں تمہیں کہتا ہوں کہ مرے خلاف زور لگاؤ اور اتناز در لگاؤ کہ اس سے زیادہ تمہاری 630