تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 628 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 628

خطبہ جمعہ فرمودہ 28 اگست 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم کوئی طاقت تم پر غالب نہیں آسکتی۔تم ہی دنیا کی سب طاقتوں پر غالب آؤ گے۔اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِينَ (ال عمران : 140) اگر تم حقیقی معنی میں مومن ہو گے، ایمان کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے والے ہو گے۔یہاں یہ نہیں فرمایا کہ مؤمن بالله يا مؤمن بالغيب يا مؤمن بالرسل وغیرہ وغیرہ مختلف تقاضے ہیں۔محض مؤمن کا لفظ استعمال کیا ہے۔ایمان باللہ کے متعلق قرآن کریم نے بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔اور حقیقت یہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اس کی معرفت پالیتا ہے، وہی حقیقی معنی میں مسلم کہلا سکتا ہے اور وہی تمام بشارتوں کا وارث بنتا ہے۔اس ایمان باللہ کی دراصل آگے مختلف شاخیں ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اپنے وجود کو اللہ کی شکل میں جن صفات کے ساتھ بیان فرمایا ہے اور اپنے آپ کو جن کمیوں اور عیبوں اور نقائص اور عیوب سے منزہ ہونے کی صورت میں پیش کیا ہے، اس کو سمجھنا اور سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی اور کو دنیا کا پیدا کرنے والا اور دنیا کو زندگی دینے والا اور دنیا کو زندہ رکھنے والا اور دنیا کو سنبھالنے والا اور دنیا کے دکھ دور کرنے والا وغیرہ وغیرہ، نہ سمجھنا، یہ ایمان باللہ کی ساری تفاصیل ہیں۔اس شکل میں ایمان لانا، یہی دراصل اسلام کی جان اور ہماری زندگیوں کی روح ہے۔اس معرفت کے بغیر دراصل زندگی ، زندگی نہیں۔بہر حال کچھ مختصر روشنی میں نے پچھلے خطبے میں ڈالی تھی۔آج میں ایمان بالغیب کے متعلق یایوں کہو کہ میں ایمان بالغیب کے ایک پہلو کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔قرآن کریم میں بڑی تاکید سے فرمایا گیا ہے کہ غیب پر ایمان لاؤ۔غیب اپنے معنی کی وسعت کے لحاظ سے، اس کی application اپلیکیشن ( یعنی جہاں جہاں اس کا استعمال کیا جاسکتا ہے، اس کے لحاظ سے بڑا وسیع ہے۔اور نسبتی بھی ہے۔فرد فرد کے لئے اور ایک عام انسان کے لئے بھی ہے۔ہر انسان کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ وہ مستقبل کا علم نہیں رکھتا۔پس وہ مستقبل بنی نوع انسان کے لئے غیب ہے۔یعنی جو بھی مستقبل ہے، وہ غیب ہے۔ماضی کے دھند لکے بڑھتے بڑھتے بعض دفعہ اس قسم کا اندھیرا پیدا کر دیتے ہیں کہ وہ چیز غیب بن جاتی ہے۔مثلاً حضرت آدم علیہ السلام کے حالات، ان کا زمانہ، ان کی مشکلات، ان کی تکالیف، ان کی کوششیں اور جدو جہد اور ان کی کوششوں پر جو ثواب مترتب ہوئے ، ان کی تفصیل ہے۔لیکن ہمیں ان کا علم نہیں۔البتہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔628