تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 627 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 627

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرموده 28 اگست 1970ء احمدیت کو غالب کرنے کا فیصلہ آسمانوں پر ہو چکا ہے خطبہ جمعہ فرمودہ 28 اگست 1970ء تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ (البقرة:4) اپنے ایمانوں کو پختہ کرو۔ایمانوں کو پختہ کرو کہ اس کے بغیر تم اور میں ان بشارتوں کے وارث کبھی نہیں بن سکتے ، جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ ہمیں دی ہیں۔اس موضوع پر میں پہلے بھی 2 یا 3 خطبات میں ایمان کے مختلف پہلو بیان کر چکا ہوں۔میں نے بتایا تھا کہ ایمان کا لفظ قران کریم میں دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ایک تو اس معنی میں کہ لفظ ایمان استعمال کیا جاتا ہے اور یہ نہیں بتایا جاتا کہ کس چیز پر ایمان؟ اور اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ ایمان کے جس قدر تقاضے قرآن کریم میں اور ان کی جس قدر تفاسیر حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کے عظیم روحانی فرزند حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان کی ہیں، ان تمام تقاضوں کو پورا کرو۔قرآن کریم نے ایمان کے ساتھ ان تقاضوں کا بھی ذکر فرمایا ہے۔مثلا قرآن کریم فرماتا ہے، اللہ تعالیٰ پر ایمان لاؤ۔قرآن کریم فرماتا ہے کہ اللہ کے رسل پر ایمان لاؤ۔قرآن کریم فرماتا ہے کہ جو پہلی کتب بھجوائی جاچکی ہیں، ان پر ایمان لاؤ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاؤ۔اللہ تعالی فرماتا ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کامل کتاب قرآن کریم کی صورت میں نازل ہوئی ہے، اس پر ایمان لاؤ۔بعض جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یوم آخرت پر ایمان لاؤ، آخرت پر ایمان لاؤ ، غیب پر ایمان لاؤ۔غرض بہت سی جگہوں پر ایمان کے تقاضوں کو ساتھ ہی بیان کر دیا گیا ہے۔اور بعض جگہ صرف ایمان یا اس کے مشتقات میں سے کوئی مشتق استعمال ہوتا ہے۔اور مراد یہ ہوتی ہے کہ تمام تقاضوں کو پورا کرو۔مثلاً اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ فرمایا ہے۔أَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ (ال عمران: 140) 627