تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 605
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 17 جولائی 1970ء بہت زیادہ کی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ کم از کم 50 میٹرک پاس طلبہ اس سال جامعہ احمدیہ میں داخل ہونے چاہئیں اور 100 اگلے سال۔پھر شاید ہم اپنی ضرورت کو پورا کرسکیں۔یہ جو پچاس ہوں گے یا جو سو اگلے سال داخل ہوں گے ، سات سال کے بعد ان کا نتیجہ نکلے گا اور یہ مبلغ بنیں گے۔میں نے سوچا ہے کہ یہ جو درمیانی عرصہ ہے، اس کے لئے پھر ریٹائر ڈ احمدی بہت سارے ایسے ہیں، جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کا اچھا خاصا مطالعہ کیا ہوا ہے اور انگریزی بھی جانتے ہیں، انہیں باہر بھجوا دیں گے کہ جا کر مبلغ کے طور پر کام کرو۔اور پھر آٹھ ، دس سال کے بعد پیچھے سے زیادہ تعداد میں ہمارے نوجوان مبلغین آنے شروع ہو جائیں گے۔اس سلسلہ میں دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ بعض لوگ ( میں ان کی نیت پر حملہ نہیں کرتا لیکن ) ایسا کرتے ہیں اور بڑی شرم آتی ہے کہ ایسے لوگ خدا کو کیا منہ دکھا ئیں گے؟ اور ہم بھی اگر ہم نے ان کی بات مان لی تو خدا کو کیا جواب دیں گے ؟ بڑے آرام سے آکر کہہ دیتے ہیں کہ میرا بچہ نہایت نخذ، پڑھائی کی طرف توجہ نہیں دیتا، آوارگی اس کے اندر ہے، میٹرک میں اس نے لوئر تھرڈ ڈویژن کے نمبر لئے ہیں، اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ آپ اسے جامعہ احمدیہ میں داخل کر لیں۔اللہ تعالیٰ کے حضور تم وہ بھیر پیش کر رہے ہو، جس کے اوپر گوشت ہی نہیں۔اور ہڈیاں بھی اس کی گلی ہوئی ہیں اور آدھ موا چمڑا اس کے اوپر ہے۔یعنی اس کے اندر کوئی قابلیت نہیں۔اور آ کر کہتے ہیں کہ چونکہ دنیا میں اس کے لئے کہیں اور راستہ نہیں،اس لئے آپ اسے جامعہ احمدیہ میں داخل کر لیں۔ایسا بچہ مبلغ کیسے بن سکتا ہے؟ اس extreme ایکسٹریم) یا مثال کے بچے کو تو ہم بہر حال داخل نہیں کرتے۔لیکن اور بہت ساری مثالیں ہیں کہ اس قسم کے لڑکے آکر داخل ہو جاتے ہیں۔لیکن دراصل نہ ان کا حق ہوتا ہے، نہ اہلیت ہوتی ہے۔پھر میرے نزدیک جو اوسط درجہ کا طالب علم آتا ہے، یہ بھی درست نہیں۔دین کے لئے ٹاپ کا، نہایت اعلیٰ درجہ کا ذہن وقف ہونا چاہئے۔یعنی ایساذ ہن کہ اس سے بہتر کوئی اور ذہن نہ ہو، بہت سارے ایسے لوگ بھی آجاتے ہیں ، بعض سادگی میں بھی بات کر دیتے ہیں، پچھلے سال ایک صاحب، جنہوں نے اپنے بچہ دین کے لئے وقف کیا ہوا تھا، ان سے میری ذاتی واقفیت بھی ہے، پھر ان کا کام بھی ایسا ہے کہ وہ مجھے بڑی کثرت سے ملتے رہتے ہیں، ان کا بچہ بھی ملتا رہتا تھا، اس نے میٹرک میں نہایت اعلیٰ درجہ کی فسٹ ڈویژن لی، وہ میرے پاس آگئے کہ یہ بچہ کہتا ہے کہ میرے اتنے اچھے نمبر ہیں، مجھے شاید وظیفہ مل جائے۔مجھے اجازت دیں کہ میں کسی کالج میں داخل ہو جاؤں اور سائنس پڑھوں یا کسی اور مضمون میں 605