تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 594
خطبہ جمعہ فرمودہ 10 جولائی 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم بات ہے۔ہم ان کی خدمت بھی کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہمیں پیسے بھی دیتا ہے اور ان کو بھی پتہ ہے اور ہمیں بھی پتہ ہے کہ ہم نے یہ پیسے باہر لے کر نہیں جانے ، ان کے ملکوں ہی میں خرچ کر دیں گے۔پس وہاں کے مبلغوں کی تنخواہیں ہیں اور وہاں کے سکولوں کے ابتدائی اخراجات ہیں۔کیونکہ وہاں کے سکول پہلے دو سال میں خرچ ما نگتے ہیں، پھر وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ہاں ایک چیز رہ گئی ہے اور وہ بھی بڑی ضروری ہے اور بڑی عجیب ہے۔میں نے ان کے معاشرہ کی جو خصوصیات دیکھیں، ان میں، میں نے یہ بھی دیکھا اور میں یہ دیکھ کر بڑا خوش ہوا کہ ان ملکوں کی حکومتوں کو اپنے سکولوں کو بہتر سے بہتر بنانے کی طرف بے انتہا توجہ ہے۔میں بغیر کسی مبالغہ کے کہہ سکتا ہوں کہ جتنی توجہ وہ اپنے سکولوں کی طرف دیتے ہیں، اس کا سواں حصہ بھی ہمارے ملک میں سکولوں کی طرف نہیں دیا جارہا۔وہاں ہمارے اپنے سکول ہیں۔میرا خیال ہے کہ 99 فیصد پاکستان کے گورنمنٹ کالجز کی لیبارٹریز اتنی اچھی Equipped (سامان سے آراستہ) نہیں، جتنی اچھی وہاں ہمارے ہائر سیکنڈری سکولز کی لیبارٹریز ہیں۔سارا خرچ حکومت دیتی ہے۔اور پھر ہمیں اپنی پالیسی چلانے کی بھی اجازت ہے۔سکولوں کے سٹاف کی ساری تنخواہیں حکومت دے رہی ہے۔مثلاً سیرالیون میں ہمارے چار سکول ہیں۔(اور جگہوں پر بھی ہیں۔ان چاروں سکولوں کے سارے سٹاف کی تنخواہیں حکومت دیتی ہے۔اور اب وہ بعض دفعہ عیسائی ٹیچر بھی مقرر کر دیتے ہیں۔لیکن تربیت کے لحاظ سے، دینیات پڑھانے کے لحاظ سے، ہماری پالیسی چل رہی ہے۔مثلا فری ٹاؤن کے سکول کے اساتذہ میں میرے خیال میں پانچ ، چھ غیر احمدی ہیں۔یہ میں نے پتہ نہیں لیا، ان میں کوئی عیسائی بھی ہے یا نہیں۔البتہ کماسی میں تین، چار عیسائی بھی ہیں۔لیکن اس کے باوجود ہمارے فری ٹاؤن کے سکول کی آخری کلاس، جو 27 لڑکوں پر مشتمل تھی ، جب امتحان پاس کر کے نکلی تو ساروں کے ساروں نے بلا استثناء بیعت فارم پر دستخط کئے اور اپنے سرٹیفکیٹ لے کر گھروں کو چلے گئے۔پس پیسے وہ خرچ کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کام ہمارے کئے جارہا ہے۔لیکن یہ تو علیحدہ معاملہ ہے۔اس پر شاید یہاں سمجھ آنے میں کچھ دیر لگے۔اللہ تعالیٰ ان کو سمجھ عطا کرے۔لیکن یہ کہ سکول اچھا ہو ، سٹاف اچھا ہو ، اس طرف ان کو توجہ ہے۔اس وجہ سے ایک وزیر ہمارے پرنسپل کو کہنے لگے کہ لوگ ہماری بوٹیاں نوچ رہے ہیں کہ اس سکول کو کہو کہ زیادہ لڑکوں کو داخل کرے۔کیونکہ وہ اپنے لڑکوں کوکسی اور سکول کی بجائے وہاں داخل کروانا چاہتے ہیں۔ہوا یہ تھا کہ حکومت نے یہ قانون بنایا کہ کسی ہائی سکول میں، جو کہ پانچ سالہ کورس کا ہے، یعنی 594