تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 545
تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطبه جمعه فرموده 19 جون 1970ء پس ہمارے ایسے مبلغ وہاں جانے چاہئیں کہ جو ایک طرف اپنے رب کریم سے انتہائی ذاتی محبت اور پیار کرنے والے ہوں اور دوسری طرف اس رب کریم کی مخلوق سے پیار کرنے اور پیار سے ان کی خدمت کرنے والے ہوں۔تب ہماری جیت ہوگی۔وہ جو بد تمیزی سے اپنے بڑوں سے بات کرتے ہیں یا جو یہ سمجھتے ہیں کہ کالے افریقن کے ساتھ بیٹھنے سے ان کی بے عزتی ہو جاتی ہے، وہ نہ مخلوق کی خدمت کر سکتے ہیں، نہ اللہ تعالیٰ کا پیار دلوں میں قائم کر سکتے ہیں۔کچھ ان کا قصور ہے، کچھ ہمارا قصور ہے۔اب میں نے نظام بدل کر اس کا اعلان کر دیا ہے۔اس کے لئے میں ایک کمیٹی بناؤں گا۔کیونکہ اس کے لئے بہت سی دفتری باتیں ہیں ، ان کا فیصلہ کرتا ہے۔ان کے پراویڈنٹ فنڈ اور ان کے حقوق وغیرہ کے متعلق ان سب پر غور کر کے اس پول کے اندر لے کر آنا ہے۔خدا کے فضل سے مالی معاملات کے احمدی ماہر اس وقت گورنمنٹ میں کام کرتے ہیں۔ان میں سے ایک کو میں نے پیغام بھیج دیا ہے کہ ایک ہفتہ کی چھٹی لے کر یہاں آ جاؤ۔تب وہ پول بن جائے گا، انشاء اللہ۔لیکن ان ساری باتوں کے علاوہ جو بنیادی بات ہے، وہ میں پھر کہنا چاہتا ہوں کہ انسان کی تدبیر بھی اچھے نتائج نکالتی ہے ، جب اللہ تعالیٰ کا فضل ، اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے ساتھ شامل ہو۔اس لئے آپ سب دعائیں کریں اور میں بھی دعا کر رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے جو ایک نئی تدبیر ذہن میں ڈالی ہے، اس کو ٹھیک طور پر عملی جامہ پہنانے کی بھی اللہ تعالیٰ توفیق دے اور اس کے بہترین نتائج نکالے۔تا کہ جو ہم محسوس کر رہے ہیں کہ اگر ہم انتہائی کوشش کریں تو بہت جلد ساری کی ساری قو میں احمدیت کی آغوش میں آجائیں گی ، یہ نظارہ ہم اپنی زندگیوں میں آٹھ ، دس سال کے اندر اندر دیکھ لیں۔اور اس سے زیادہ خوشی اس دنیا میں اور کوئی نہیں ہوسکتی کہ وہ لوگ ، جو محد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دور تھے ، وہ جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن نہ دیکھنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے حسن کے جلوے بھی نہیں دیکھے، وہ جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب ترین امتی حضرت مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام سے دور ہیں، یہ سارے حسن اور اللہ تعالیٰ کی صفات کے مختلف جلوے، جو اس دنیا میں ہمیں نظر آتے ہیں، وہ بھی ان کو پہچاننے لگیں اور اس حسن کے گرویدہ ہوں اور ان حسنوں سے برکتیں حاصل کریں اور دین و دنیا کی ترقیات ان کو ملیں۔اور وہ بھی اس مقام نعیم میں آجائیں کہ دنیا جب ان کے چہروں پر نگاہ ڈالے تو انہیں کالے رنگ نہ نظر آئیں بلکہ انہیں منور دل نظر آئیں اور ساری دنیا ایک برادری اور ایک خاندان بن کر امن اور سکون کی اور اطمینان کی اور محبت و پیار کی زندگی گزارنے لگے۔( مطبوعه روزنامه الفضل 30 جولائی 1970 ء ) 545