تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 544 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 544

خطبه جمعه فرمود و 19 جون 1970ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم میں وہاں پر اپنے مبلغوں کو کہتا رہا تھا کہ دیکھو! نہ جان، نہ پہچان نہ ہم مذہب، نہ ہم خیال، نہ کوئی واسطہ، جب وہ مجھے دیکھتے ہیں تو میں مسکراتا ہوں تو وہ بھی مسکراتے ہیں۔بڑے افسردہ چہروں کو بھی میں نے دیکھا، گواتنے زیادہ افسردہ چہرے تو مجھے نظر نہیں آئے لیکن ایک سنجیدہ آدمی کو جب بھی میں نے مسکرا کر سلام کیا تو بشاش ہو کر اس کے دانت نکل آتے تھے اور سلام کا جواب مسکرا کر دیتا تھا۔میں نے اعلان کیا کہ آج کا دن مسکراہٹوں کا دن ہے، تقسیم کرنے کا دن“ کا اعلان کر دیا۔میں نے کہا، آج کے دن اتنی مسکراہٹیں چہروں پر کھلی ہیں کہ آج کے دن کو میں مسکراہٹوں کا دن قرار دیتا ہوں اور اس کا اعلان کرتا ہوں۔اور جب ان کے ہیڈ آف دی سٹیٹس سے میں نے ملاقات کی تو ان کو میں نے کہا کہ میں نے کل کے دن کو مسکراہٹوں کا دن قرار دیا ہے۔کیونکہ مسلم بھی، غیر مسلم بھی ، عیسائی بھی ، مشرک بھی، پچاس ہزار سے لاکھ تک مسکراہٹیں میں نے تمہاری قوم سے وصول کی ہیں۔اس پر وہ بڑا خوش تھا۔میں نے کہا کہ یہاں مجھے کوئی بدامنی کوئی غصہ کوئی رنجش کوئی لڑائی اس قوم میں نظر نہیں آئی۔چنانچہ وہ بڑا خوش ہوا۔اسے خوش ہونا چاہئے۔کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑا اچھا لیڈر دیا ہے اور اس لیڈر کو دنیوی لحاظ سے بڑی اچھی قوم دی ہے۔ابھی ہم نے ان کو دین سکھانا ہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت ان کے دلوں میں قائم کرنی ہے۔وہ علیحدہ بات ہے۔لیکن دنیوی لحاظ سے وہ قوم بڑی اچھی اور ان کا لیڈر بڑا اچھا، پیار کرنے والا ہے۔پریس کانفرنس میں پوچھا گیا کہ آپ کا ہمارے لیڈر کے متعلق کیا خیال ہے؟ میں نے جواب میں کہا کہ تمہیں اپنے لیڈر پر فخر کرنا چاہئے۔اور اسے تم پر فخر کرنا چاہئے۔You should be proud of him۔He should be proud of you۔اسے تم پر فخر کرنا چاہئے ، ایسی اچھی قوم اللہ تعالیٰ نے اسے عطا کی ہے۔بات یہ میں آپ کو بتارہا ہوں کہ وہ پیار کے بھوکے اور پیاسے ہیں۔اور میں غیر ملک سے گیا، نہ جان، نہ پہچان، میں نے ان کو پیار دیا اور پیار ان سے وصول کیا اور ان کے لئے یہ بڑی حیرت انگیز بات تھی کہ ایک مسلم رہنما، اپنی جماعت کا ہیڈ ، خلیفہ اور امام اور وہ آ کر بے تکلف ایک غریب آدمی کے بچہ کو اٹھاتا اور اس سے پیار کرتا ہے۔وہ حیران ہو کر دیکھتے تھے اور خوشی سے اچھل پڑتے تھے۔جہاں رکنا پڑتا تھا، وہاں دوسرے بچوں کو بھی اسی طرح پیار دیتا تھا۔ہر ایک کو پتہ تھا کہ ہمارے ساتھ ایک پیار کرنے والا آ گیا ہے۔544