تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 39
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرمودہ 25 فروری 1966ء کو تمہارے اوقات کی ضرورت ہے۔یا اس وقت اللہ تعالیٰ کو تمہاری جانوں کی ضرورت ہے۔آؤ، آگے بڑھو اور خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے اموال، اپنے اوقات اپنی جانیں پیش کر دو تا تم اس مقصد کو حاصل کر سکو، جس کے لئے انسان کو پیدا کیا گیا ہے اور جس کے حصول میں مدد دینے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اسلام جیسے خوبصورت، حسین، کامل اور مکمل مذہب کو دنیا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ بھیجا ہے۔خذمن اموالهم صدقة میں خذا مر کا صیغہ ہے اور اس کے پہلے مخاطب خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔لیکن ہم یقین رکھتے ہیں کہ آپ قیامت تک کے لئے ایک زندہ وجود ہیں۔اور وہ اس طرح کہ خدا تعالیٰ قیامت تک اپنی حکمت بالغہ سے آپ کے ایسے اظلال پیدا کرتا رہے گا ، ( جیسا کہ وہ آج تک پیدا کرتا چلا آیا ہے۔) جو آپ کی کامل اطاعت، کامل محبت اور آپ میں کامل فنا ہونے کی وجہ سے گویا ایک طرح آپ کا ہی وجود بن جاتے ہیں۔پس اس آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ان اظلال کو بھی ، جو آئندہ پیدا ہونے والے تھے، (اور ان میں مجددین، اولیاء امت اور خلفائے راشدین بھی شامل ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ایسا انتظام کیا ہوا ہے کہ امت مسلمہ میں ہر وقت ایسے لوگ موجود رہتے ہیں، جو آپ کی کامل متابعت اور فنافی الرسول ہونے کی وجہ سے آپ کا کل ہونے کی اہلیت رکھتے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں بھی وہ آپ کے ظل ہیں۔) مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ خذمن اموالهم صدقة تم امت مسلمہ کی ترقی کے لئے اور مومنوں کو روحانی بلندیوں تک پہنچانے کے لئے قربانیوں اور ایثار کے منصوبے تیار کرتے رہو۔اور ان کی ملکیتیوں میں سے ایک حصہ لے کر خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کا ہمیشہ انتظام کرتے رہو۔تاوہ ان روحانی مدارج تک پہنچتے رہیں ، جن تک وہ اسلام کی اتباع اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے نتیجہ میں پہنچ سکتے ہیں۔پھر خذ من اموالهم صدقۃ میں ایک بشارت بھی ہے۔اور وہ یہ کہ اسلام نے آزادی ضمیر پر بڑا زور دیا ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے بڑی وضاحت سے اور بار بار ہمیں فرمایا ہے کہ جبر سے حاصل کردہ اموال یا مجبور ہو کر دی جانے والی قربانیاں خدا تعالیٰ کی نظر میں کوئی قدر نہیں رکھتیں۔نہ وہ انہیں قبول کرتا ہے اور نہ ان کے نتیجہ میں روحانی فیوض حاصل ہوتے ہیں۔پس اس آیت میں یہ بشارت دی گئی ہے کہ اللہ تعالی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور پھر ایک حد تک آپ کے اخلال کو بھی ایسی جماعتیں عطا کرتارہے گا ، جو بشاشت اور خوشی کے ساتھ خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے اموال قربان کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہیں گی۔اور اس بشارت کو ہم ہر صدی اور ہر زمانہ میں پورا ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ہماری جماعت کو ہی دیکھ لو، اس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قائم کیا تھا۔جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل ظل ) 39