تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 522 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 522

خطبہ جمعہ فرموده 12 جون 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چهارم ریمائنڈر ) ہر ایک کو ایک عام خط لکھوں گا۔اور پھر چھ ماہ کے بعد دوسرا خط لکھوں گا کہ یا تو فوری ادا کر دیا اگلا سال آ رہا ہے، نصف دوسرے سال میں جو باقی رہ گیا ہے، وہ ادا کرو۔پس انشاء اللہ وہ ضرور دیں گے۔میں نے شروع میں بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ کہا ہے کہ میرے نام پر قربانیاں لیتا جا اور جماعت وہ قربانیاں دیتی چلی جائے گی۔میرا کام ہے کہ میں سوچوں اور اللہ تعالیٰ کی منشا کے مطابق اپنا ہر منصوبہ بناؤں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے، پین کے متعلق میں نے ابھی کوئی منصو بہ نہیں بنایا۔کیونکہ اگر میں صحیح سمجھا ہوں، اللہ تعالیٰ کا منشا بھی یہی ہے۔میں بہت پریشان تھا ، سات سو سال تک وہاں مسلمانوں کی حکومت رہی ہے، اس وقت کے بعض غلط کار علماء کی سازشوں کے نتیجہ میں وہ حکومت مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گئی، وہاں کوئی مسلمان نہیں رہا۔ہم نے نئے سرے سے تبلیغ شروع کی۔چنانچہ اس ملک کے چند باشندے احمدی مسلمان ہوئے۔وہاں جا کر شدید ذہنی تکلیف ہوئی۔غرناطہ جو بڑے لمبے عرصہ تک دار الخلافہ رہا، جہاں کئی لائبریریاں تھیں، یو نیورسٹی تھی، جس میں بڑے بڑے پادری اور بشپ مسلمان استادوں کی شاگردی اختیار کرتے تھے، مسلمان وہاں سے مٹادیئے گئے۔غرض اسلام کی ساری شان و شوکت مادی بھی اور روحانی بھی اور اخلاقی بھی مٹادی گئی ہے۔طبیعت میں اس قدر پریشانی تھی کہ آپ اندازہ نہیں کر سکتے۔غرناطہ جاتے وقت میرے دل میں آیا کہ ایک وقت وہ تھا کہ یہاں کے درودیوار سے درود کی آوازیں اٹھتی تھیں۔آج یہ لوگ گالیاں دے رہے ہیں۔طبیعت میں بڑا تکدر پیدا ہوا۔چنانچہ میں نے ارادہ کیا کہ جس حد تک کثرت سے درود پڑھ سکوں گا، پڑھوں گا۔تا کہ کچھ تو کفارہ ہو جائے۔لیکن اللہ تعالیٰ کی حکمت نے مجھے بتائے بغیر میری زبان کے الفاظ بدل دیئے۔گھنٹے ، دو گھنٹے کے بعد اچانک جب میں نے اپنے الفاظ پر غور کیا تو میں اس وقت درود نہیں پڑھ رہا تھا۔بلکہ اس کی جگہ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنتَ اور لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ پڑھ رہا تھا۔یعنی تو حید کے کلمات میری زبان سے نکل رہے تھے۔تب میں نے سوچا کہ اصل تو تو حید ہی ہے۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت بھی قیام تو حید کے لئے تھی۔میں نے فیصلہ تو درست کیا تھا۔یعنی یہ کہ مجھے کثرت سے دعائیں کرنی چاہئیں۔لیکن الفاظ خود منتخب کر لئے تھے۔درود سے یہ کلمہ کہ اللہ ایک ہے، زیادہ مقدم ہے۔چنانچہ میں بڑا خوش ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے خود ہی میری زبان کے رخ کو بدل دیا۔ہم غرناطہ میں دورا تیں رہے۔دوسری رات تو میری یہ حالت تھی کہ دس منٹ تک میری آنکھ لگ جاتی پھر کھل جاتی اور میں دعا میں مشغول ہو جاتا۔ساری رات میں سو نہیں سکا۔ساری رات اسی سوچ میں گزرگئی کہ ہمارے پاس مال نہیں۔یہ بڑی طاقتور قومیں ہیں۔مادی لحاظ سے بہت آگے نکل چکی ہیں۔ہمارے پاس ذرائع نہیں ہیں، وسائل نہیں ہیں۔ہم انہیں کس طرح مسلمان کریں گے ؟ حضرت مسیح موعود 522