تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 517 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 517

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرموده 12 جون 1970ء واقعات ہوئے، پانچ بجے کی خبروں میں ان کے متعلق خبر اور پھر پانچ اور رات کے نو بجے کے درمیان واقعات ہوئے ، رات کے نو بجے کی خبروں میں ان کے متعلق خبر نشر ہوتی تھی۔یوں کہنا چاہئے کہ ایک نمائندہ قریباً 24 گھنٹے ساتھ لگا رہتا تھا۔پھر آپس میں جو باتیں کر رہے ہیں، ان کے ریکارڈ کرنے کے لئے مائیک سامنے آجاتا تھا۔بو میں جو فری ٹاؤن سے 170 میل ہے۔ریڈیو کی ایک نمائندہ ہر وقت باہر بیٹھی رہتی تھی۔جوں ہی میں باہر نکلا ، اس نے ٹیپ ریکارڈر آن کیا اور پاس آگئی۔اور پھر وہ نیوز بلیٹن سے پہلے خبریں بھجواتی تھی۔ایک، دو فقرے نہیں بلکہ بعض دفعہ پندرہ منٹ کی خبروں میں پانچ، پانچ منٹ تک ہمارے متعلق خبریں ہوتی تھیں کہ فلاں جگہ گئے ، یہ ہوا۔فلاں سے باتیں کیں، مسجد کا بنیادی پتھر رکھایا۔لڑکوں کو مخاطب کیا اور اس میں یہ یہ ان کو کہا۔علاوہ اس امید کے پیغام کے جس کا میں ذکر کر چکا ہوں، میں ان کو مایوسی کے دور کرنے والا پیغام بھی دیا کرتا تھا۔کیونکہ بڑا ظلم ہوا ہے، ان پر۔ایک طبقہ میں مایوسی بھی پائی جاتی تھی۔پس اللہ تعالیٰ نے اس کی بھی توفیق دی کہ میں ان کی مایوسیوں کو دور کروں اور امیدوں کو ابھاروں۔تا کہ آئندہ نسلیں مسرت کی زندگی گزار سکیں۔ہماری دعا ہے کہ وہ دینی اور دنیوی ہر لحاظ سے بہتر زندگی گزارسکیں۔جس نمائندہ عورت کا میں ذکر کر رہا ہوں، اس نے دیکھا کہ میں نے سکول میں ایک لڑکے کو اپنی جیب سے دو پاؤنڈ نکال کر دیئے۔علاوہ اس انعام کے جو اسے سکول کی طرف سے ملنے والا تھا۔بعد میں وہ ہمارے پرنسپل سے کہنے لگی کہ یہ بچہ ہے، اس نے یہ پاؤنڈ خرچ کر دینے ہیں اور یہ بڑا ظلم ہوگا۔اس لئے تم اسے کہو کہ ایک پاؤنڈ میرے پاس بیچ دے کیونکہ میں اسے خرید کر تبرک کے طور پر اپنے پاس رکھنا چاہتی ہوں۔پرنسپل نے مجھے بتایا ، میں نے کہا، اس بچے کومحروم نہ کریں۔میں اسے ایک پاؤنڈ دے دیتا ہوں۔چنانچہ میں نے دستخط کر کے ایک پاؤنڈ سے دے دیا۔پھر اس نے منصورہ بیگم سے کہا کہ ہمارا آدھا خاندان مسلمان ہے، آدھا عیسائی ہے۔انہوں نے مجھ سے ذکر کیا۔میں نے اسے تبلیغ کی اور اسے بتایا کہ عیسائیت یہاں یہ دعوئی لے کر آئی تھی کہ مسیحیت کے پاس محبت کا پیغام ہے۔مگر وہ نا کام ہوئی اور عیسائی اقوام نے تم پر ظلم ڈھائے۔اب ہم آئے ہیں، قریباً پچاس سال سے تمہارے ملک میں کام کر رہے ہیں اور تم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہو کہ سوائے ہمدردی اور مساوات اور اخوت کے اور کوئی جذبہ ہمارے دلوں میں نہیں ہے۔یہ لو بیعت فارم تم اسے پڑھو اور اللہ کے حضور دعا کرو۔میں نے اسے یہ نہیں کہا کہ ابھی احمدی ہو جاؤ۔کیونکہ یہ دل کا معاملہ ہے۔جب تک دل نہیں مانے گا تمہارے احدی ہونے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کے حضور تم دعا 517