تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 482 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 482

خطاب فرمودہ 07 جون 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم چاہتے ہیں۔ہم تو تمہارے دلوں کو جیتنا چاہتے ہیں اور دل پیار سے ہی جیتے جاسکتے ہیں، طاقت سے نہیں جیتے جاسکتے۔طاقت دل میں نہ تبدیلی پیدا کرسکتی ہے، نہ دل کو جیت سکتی ہے۔زبان سے کہلوا سکتی ہے لاکھوں آدمیوں کو تباہ کرسکتی ہے۔مجھے دو امریکن ملے۔میں نے ان سے کہا کہ انسانیت سے تمہیں کوئی پیار نہیں۔کہنے لگے کیسے؟ میں نے کہا کہ تم نے بلین در بلین ڈالر خرچ کر کے جو چیز تیار کی ہے، وہ انسان کو ہلاک کرنے کے لئے کی ہے۔اے بم سے اب ایچ بم ہو گئے ہیں۔عجیب بات ہے کہ انسان انسان کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتارہا ہے، قوم قوم کی تحقیر کر رہی ہے۔وہ پڑھے لکھے تو ہیں، میں نے نہ روس کا نام لیا، نہ امریکہ کا۔ویسے ہی عام بات کی تھی کہ دنیا کی اقوام یہ کر رہی ہیں۔چنانچہ انہوں نے آگے سے مجھے جواب یہ دیا کہ اب ہماری روس کے ساتھ Under standing (انڈرسٹینڈنگ ) ہو رہی ہے یا ہوگئی ہے۔تو میں نے کہا but out of fearnox out of love تم نے مجبور ہو کر خوف کی وجہ سے یہ انڈرسٹینڈنگ کی ہے، محبت کے نتیجہ میں تو یہ بات نہیں ہوئی۔ان میں سے ایک کھسیانا ہو کر کہنے لگا، بہر حال ایک قدم صحیح راستے کی طرف اٹھا ہے۔میں نے کہا کہ یہ مان لیتا ہوں مگر انسانیت سے محبت نہیں۔اسلام نے ہمیں انسان سے محبت کرنا سکھایا ہے۔محبت کا لفظ عربی معنی میں، میں استعمال نہیں کر رہا۔وہاں وہ لفظ ہم استعمال نہیں کرتے۔کیونکہ عربی میں جب محبت کا لفظ بولا جائے تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ محبوب کی نقل کرنی ہے۔پس جو بد اخلاقیوں میں گرے ہوئے، انسان ہیں، ان کی ہم نے نقل تو نہیں کرنی۔لیکن اردو میں اس معنی میں یہ لفظ استعمال نہیں ہوتا اور میں اردو میں ہی استعمال کر رہا ہوں۔پس انسان سے محبت کرنا سکھائی، مساوات سکھائی ، کتنا عظیم سبق دیا ہے۔میں نے جب اکثر بڑے مجمع میں جس میں بہت سارے دوسرے لوگ بھی شامل ہوتے تھے ، ان کو میں نے کہا کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف مساوات کی تعلیم نہیں دی۔بلکہ ایک حسین رنگ میں اس پر عمل بھی کیا اور افریقہ میں ایک افریقن کی مثال دیتا ہوں کہ آپ کی زندگی میں ایک افریقن تھا۔مکہ میں رہا کرتا تھا، مکہ کے جو چیفس تھے، ان کا وہ غلام تھا۔پھر اللہ تعالیٰ نے اسے نور ہدایت دکھا دیا، چنانچہ وہ مسلمان ہو گیا۔وہ پہلے اسے صرف حقارت کی نگاہ سے دیکھتے تھے، اس کے اسلام لانے کے بعد ان حقارت اور نفرت اور بڑھ گئی۔جو ظلم انہوں نے اس پر ڈھائے ، اس کے تصور سے آج بھی ہمارے رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں۔پھر ایک مسلمان نے اس کو خرید کر آزاد کرایا۔اور اس طرح وہ انسان کی برادری میں آکر شامل ہو گیا۔سرداران 482