تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 30 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 30

خطبہ جمعہ فرمودہ 18 فروری 1966ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم دوسرے معنی یقبض ویبصط کے یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ کسی ملک یا کسی خاندان یا کسی فرد کے سرمایہ یا جائیداد کی پیداوار میں اضافہ کر دیتا ہے یا کمی کر دیتا ہے اور یہ نہیں ہوتا کہ مال یہاں سے لیا اور وہاں رکھ دیا۔اس سے لیا اور اسے دے دیا۔پہلے معنی کی رو سے تو یہ تھا کہ مال کسی سے لیا اور دوسرے کو دے دیا۔ایک کے کاروبار میں بے برکتی ڈالی اور دوسرے میں برکت ڈال دی۔لیکن ان معنوں کی رو سے یہ شکل ہوگی کہ اللہ تعالی بغیر اس کے کہ کس کے کاروبار اور اموال میں بے برکتی ڈالے۔وہ دوسرے کے کاروبار اور اموال میں زیادتی اور افزائش پیدا کر دیتا ہے یا دوسرے کے کاروبار اور اموال میں زیادتی کئے بغیر اس کے اموال اور کاروبارکو کم کر دیتا ہے۔مثلاً ایک زمیندار ہے، اس کی زمین بنجر تھی ، اس میں کوئی پیداوار نہیں ہوتی تھی۔یا اگر ہوتی تھی تو بہت کم۔اللہ تعالیٰ نے سمندروں سے پانی کو بادلوں کے ذریعے اٹھایا۔پھر وہ بادل ایسی جگہ بر سے کہ بعض دریاؤں میں طغیانی آگئی۔اللہ تعالیٰ نے اس طغیانی کے پانی کو اس شخص کی بنجر زمین میں پھیل جانے کا حکم دیا۔یہ پانی اپنے ساتھ پہاڑوں سے پیداوار بڑھانے والی مٹی کے اجزاء لے آیا تھا۔اللہ تعالیٰ نے ان ذرات ارضی کو حکم دیا کہ اس شخص کی زمین میں ٹھہر جاؤ تمہارا سفر ختم ہو چکا۔چنانچہ وہ ذرات ارضی اس کی بنجر زمین میں ٹھہر گئے اور اس طرح جس ایکڑ سے وہ شخص بمشکل دو، تین من گندم سالانہ پیدا کرتا تھا اور ابھی پچدھی کھا کر گزارہ کرتا تھا، اسی زمین میں اتنی طاقت اور زندگی پیدا ہوگئی کہ اب اس میں پندرہ ، پندرہ من گندم سالانہ پیدا ہونے لگی۔اسی طرح ایک اور زمیندار ہے، اس کی زمین بڑی اچھی ہے۔اس میں بہت زیادہ پیداوار ہوتی ہے اور اس کی زرخیزی مالک کی آمد میں بہت اضافہ کرتی ہے۔اللہ تعالی ، جو آسمان سے حکم بھیج کر غریب اور مفلس لوگوں کو مالدار بنا دیتا ہے اور مالداروں کو مفلس اور قلاش بنا دیتا ہے۔اس زرخیز زمین میں تھور اور سیم پیدا کر کے اسے بنجر بنادیتا ہے اور اس طرح اس کی آمد کم ہو جاتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ کسی مالدار کو مفلس اور قلاش بناد بینا یاکسی غریب اور مفلس کو مالدار اور غنی بنادینا، میرے اختیار میں ہے۔اس لئے اگر تم مجھ سے کوئی سودا کرو گے تو اس میں تمہیں کوئی گھاتا نہیں ہوگا۔کیونکہ میں قادر مطلق اور رزاق ہوں۔پھر قبض کے معنی مضبوطی سے پکڑ لینے کے بھی ہوتے ہیں۔اور مضبوطی سے اس شئی کو پکڑا جاتا ہے، جس کے متعلق فیصلہ ہو کہ اسے چھوڑنا نہیں کیونکہ اگر اسے چھوڑا تو نقصان ہوگا۔ان معنوں کی رو سے اللہ تعالیٰ اس آیت میں یہ بیان فرماتا ہے کہ جو مال تم میرے سامنے بطور ہدیہ پیش کرو گے، میں اسے مضبوطی سے پکڑلوں گا یعنی اسے ضائع نہیں ہونے دوں گا۔یہ میرا تمہارے ساتھ وعدہ ہے، جسے میں 30