تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 447
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم ارشاد فرمودہ 29 مارچ 1969ء چندوں کا آپ جائزہ لیں تو آپ کو یہ نظر آئے گا کہ ہر سال چندہ کم ہو رہا ہے۔چندہ دینے والے لوگ یا تو فوت ہو جاتے ہیں اور یا پھر ملازمت سے ریٹائر ہو جاتے ہیں۔اور وہ چندہ میں زیادہ رقم نہیں دے سکتے۔دفتر دوم نے اس خالی جگہ کو پر کرنا ہے۔اور دفتر سوم نے دفتر دوم کی خالی جگہ کو پر کرنا ہے۔دفتر سوم کے متعلق گو پوری کوشش کرنی چاہئے۔لیکن فکر کی کوئی بات نہیں۔دفتر دوم کے متعلق فکر کی بات ہے۔ان کا معیارا تن بلند ہو جائے کہ ان کا چندہ دفتر اول کے چندہ کی اوسط پر آجائے۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا ہے کہ اگر دفتر دوم کا چندہ آٹھ نو لاکھ روپیہ ہو جائے تو ہماری ضرورت پوری ہو جاتی ہے اور فکر کی کوئی بات نہیں رہتی۔اس معیار پر پہنچانے کے لئے جماعت کے دوستوں کو سمجھانے کی ضرورت ہے، چندہ کے لازمی کرنے کی ضرورت نہیں۔کیونکہ جب ہم ایسی جگہ پر چندہ کو لازمی کرتے ہیں، جہاں نہیں ہونا چاہئے تو دو میں ایک نتیجہ ضرور نکلے گا۔یا تو آپ گنہ گار ہوں گے، اس لئے کہ کیوں نہ آپ نے مخلصین کا خیال رکھا اور ان کو گنہ گار بنانے کی کوشش کی؟ اور یا پھر وہ گنہ گار ہوں گے کہ جو فرض ان پر جماعتی نظام نے عائد کیا تھا، وہ انہوں نے کیوں پورا نہ کیا ؟ طوع تحریک سے ہم کمی کو پورا کر سکتے ہیں۔اور طوعی تحریک سے ہی کمی پوری ہونی چاہئے۔تجویز میں تنفیذ کی جائے یالا زمی قرار دیا جائے ، کے جو الفاظ ہیں، وہ نہیں آنے چاہئیں۔اب تنفیذ کا لفظ انہوں نے بول دیا ہے۔اگر میں ان سے پوچھتا تو انہوں نے کہنا تھا، ہم نے لازمی قرار نہیں دیا۔لیکن تنفیذ کرنے کا مطلب لازمی ہے۔کیونکہ جو قانون نہیں ، اس کی تنفیذ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔حکم کی تعمیل کا نام تنفیذ ہے۔پس تجاویز کی ان شقوں کو آپ پاس کریں یا نہ کریں، مجھے اس سے کوئی تعلق نہیں۔اگر آپ پاس کر دیں گے تو میں رد کر دوں گا۔لیکن طوعی کوشش سے ہمیں اتنا چندہ ملنا چاہئے کہ تحریک جدید کے چندہ کا بجٹ آٹھ ، نولاکھ روپیہ ہو جائے۔اگر ہم تجزیہ کریں تو معلوم ہوگا کہ طوعی کوشش کے نتیجہ میں بعض جماعتیں اور افراد پہلے ہی قریباً اس معیار کے مطابق چندہ دے رہے ہیں، جس معیار پر لانے کے لئے سب کمیٹی نے بعض تجاویز پیش کی ہیں۔مثلاً یہ بات ہمارے سامنے آگئی ہے کہ جس چیز کو آپ لازمی بنانا چاہتے ہیں یا لازمی بنانے کے متعلق سوچ رہے ہیں، کراچی کی جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے پہلے ہی اس کے لگ بھگ ہے۔لیکن اگر اس چندہ کو لازمی قرار دے دیا جائے اور معیار وہ مقرر کر دیا جائے ، جو سب کمیٹی نے تجویز کیا ہے تو ایک زلزلہ آ جائے گا۔کیونکہ بہت سارے دوست ایسے ہوں گے، جن کے دماغ میں اخلاص کے باوجود یہ بہانہ آجائے گا کہ فلاں ضرورت پڑگئی ہے، جماعت نے چندہ تحریک جدید مثلاً پچاس تک لازمی رکھا ہے اور ہم پہلے سوروپیہ دے 447