تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 446 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 446

ارشاد فرموده 29 مارچ 1969ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم زمیندار دوست نے بڑی اچھی بات کہی ہے، ممکن ہے، وہ بات شہر والوں کو سمجھ نہ آئی ہو اور یہ خالی تحریک جدید کے چندہ کے متعلق ہی نہیں بلکہ عام زمیندار ( میں ایسے زمینداروں کی بات نہیں کر رہا، جو سیٹھ بھی ہیں اور آڑھت کی دکانیں بھی کر رہے ہیں۔جن کے پاس چھ چھ، سات سات ایکڑ زمین یا دس دس، بارہ بارہ ایکڑ زمین ہے، ان کے پاس اپنی کم سے کم ضروریات زندگی پر خرچ کرنے کے بعد بہت تھوڑی رقم بچتی ہے، ان کے دل اخلاص سے خالی نہیں۔لیکن اپنے ماحول کے لحاظ سے اگر وقت کے اوپر ان کے پاس آدمی نہ پہنچے تو چندہ دینے میں ان سے سستی ہو جاتی ہے اور اس سے انہیں بڑا دکھ ہوتا ہے۔پچھلے سال مجھے پتہ لگا کہ صدر انجمن احمدیہ کے لازمی چندوں میں ایک علاقہ نے کچھ ستی دکھائی ہے۔میں نے جماعت کے دوستوں کو کہا کہ اپنے چندے فورا ادا کر دو۔میں نے ایک آدمی کو زبانی پیغام دیا تھا۔چنانچہ ایک دوست ایسے بھی تھے، جنہوں نے اپن بھینس بیچ کر اپنا چندہ ادا کیا۔اب دیکھو، اخلاص میں تو کوئی کی نہیں۔اگر اس دوست کے پاس محصل گندم اور دوسری فصلوں کی برداشت کے وقت جاتا اور ان سے چندہ مانگتا تو وہ ادا کر دیتے۔اب دیکھو، اس دوست نے اپنی بھینس بیچی ، وہ انہوں نے فرض کرو پانچ سوروپیہ میں فروخت کی ہوگی۔اور چندہ انہوں نے شاید سوروپیہ دینا ہوگا۔لیکن چونکہ ان میں اخلاص تھا، اس لئے انہوں نے کہا، بھینس فروخت کر کے سور و پید ادا کر دینا چاہئے۔خواہ گھر میں بچوں کو کچھ عرصہ کے لئے دودھ نہ ملے۔اس کے بعد شاید نئی فصل پر انہوں نے ایک اور بھینس خریدی ہوگی۔میں نے جماعت کے سامنے حساب لگا کر یہ بات رکھی تھی کہ دفتر اول کی اوسط یہ ہے، دفتر دوم کی اوسط یہ ہے، دفتر سوم کی اوسط یہ ہے۔مجھے دفتر دوم کی زیادہ فکر ہے۔کیونکہ دفتر سوم تو ابھی جاری ہوا ہے اور نوجوانوں کا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ نے ان کو تربیت دینے کی توفیق دی اور انہوں نے تربیت حاصل کرنے کی توفیق پائی تو جب وہ بڑے ہوں گے اور کمانے لگیں گے تو ممکن ہے کہ وہ چھلانگیں مارتے ہوئے ، دفتر اول سے بھی آگے نکل جائیں۔دفتر دوم والے کمانے والے ہیں اور خاص عرصہ سے وہ اس میں شامل ہیں۔دفتر دوم کو جاری ہوئے، پچیس سال ہو چکے ہیں اور دفتر اول کو جاری ہوئے چھتیس سال ہو چکے ہیں۔گو ہر عمر میں لوگ فوت ہو جاتے ہیں، زندگی اور موت اس دنیا کے ساتھ لگی ہوئی ہے لیکن یہ نظر آ رہا ہے کہ دفتر دوم دفتر اول سے پیچھے رہ گیا ہے۔اس میں شک نہیں کہ دفتر اول میں ایسے لوگ بھی شامل ہوئے کہ اگر دس سال کے اندر دفتر دوم کا اجرا ہو جاتا تو وہ لوگ دفتر دوم میں شامل ہوتے۔غرض زیادہ تعداد دفتر اول میں چلی گئی۔لیکن دفتر دوم میں شامل ہونے والوں نے بہر حال اول کی جگہ لینی ہے۔اور دفتر اول کے پچھلے دو، تین سال کے 446