تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 443
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطاب فرموده 29 اکتوبر 1969ء کوششیں کامیاب ہوئیں۔مگر کیا انسان اور کیا اس کی کوشش؟ وہ دنیا جو اس وقت اسلام کی مخالف ہے، اس کے مقابلہ میں ہماری یہ طاقت یا ہماری یہ دولت یا ہمارے افراد کی یہ تعداد کچھ حیثیت ہی نہیں رکھتی۔لیکن بہت سے لوگ یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم تھوڑوں کو یہ توفیق دے دی۔اگر چہ وہ اس کو اللہ تعالی ہی کی طرف منسوب کرتے ہیں لیکن اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ نہیں ہوتے۔حقیقت یہ ہے کہ تھوڑوں کو تو فیق تو دے ہی دیتا ہے۔مگر اس کے ساتھ اگر اللہ تعالیٰ ہزاروں، لاکھوں اور کروڑوں گنا اپنی قدرت بیچ میں نہ ملاتا تو وہ نتیجہ نہ نکلتا، جو آج ہمیں نظر آ رہا ہے۔ساری دنیا ہماری مخالف ہے اور ساری دنیا میں ہم خدا کے نام کی آواز کو بلند کرنے کے لئے اور ساری دنیا کے دلوں میں ہم حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت گاڑنے کے لئے پھر رہے ہیں۔ربوہ کی گلیوں میں بعض نو جوان پھرتے ہیں ، آپ ان کے پاس سے گزر جاتے ہیں مگر آپ کے دل میں ان کی کوئی قدر پیدا نہیں ہوتی۔لیکن جب جماعت ان کو باہر بھیج دیتی ہے۔مثلاً افریقہ کے کسی ملک میں اور جب وہ وہاں پہنچ کر اسلام کی تبلیغ کا کام شروع کرتے ہیں اور وہاں سے رپورٹیں آتی ہیں کہ یوں وہاں کے پریذیڈنٹ نے محبت اور عزت کا سلوک کیا تو پھر دیکھنے والی آنکھ اندازہ کر سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کس قدر محبت اور پیار کرنے والا ہے۔اور کس طرح ذرہ نا چیز کو جب اپنے ہاتھ میں لیتا ہے تو اس کے ذریعہ سے اپنی قدرت کو ظاہر کرتا ہے۔پس دنیا کی نظر سے وہ ذرہ پوشیدہ ہو جاتا ہے۔دنیا کو تو اللہ تعالی کی وہ انگلیاں نظر آ رہی ہوتی ہیں، جن سے اس نُوْرُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ کا نور پھوٹ پھوٹ کر نکل رہا ہوتا ہے اور دنیا کی آنکھیں چندھیا ر ہی ہوتی ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر تو کوئی بات ہو نہیں سکتی۔اور اللہ تعالیٰ کا اب تک یہ فضل رہا ہے، امید ہے کہ انشاء اللہ ایک لمبے عرصے تک یہ فضل رہے گا“۔اللہ تعالیٰ پر ہمیں یہی بھروسہ ہے کہ وہ اپنے فضل سے ایسا ہی کرے گا اور ہم جو اس کے نہایت وو ہی عاجز بندے ہیں، ہماری کوششوں میں وہ برکت ڈالے گا اور ہماری دعاؤں کو وہ قبول فرمائے گا۔اور اس کے نتیجہ میں ہمارے کاموں میں وہ عظمت اور وہ شان پیدا ہوگی اور ہماری کوششوں کے وہ بہترین نتائج نکلیں گے، جو دنیا کے لئے معجزات بن کر ظاہر ہوں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی رحمت سے ہمیشہ نواز تار ہے۔آمین۔مطبوعه روزنامه الفضل 14 جنوری 1970 ء ) 443