تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 29 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 29

تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرمودہ 18 فروری 1966ء تاریں ہلا دیتا ہوں کہ ایک شخص کے پاس وہی کاروبار ہوتا ہے ، وہی سرمایہ ہوتا ہے لیکن اس قسم کے حالات پیدا ہو جاتے ہیں کہ پہلے وہ بہت کما رہا ہوتا ہے اور اب وہ کم کمانے لگ جاتا ہے۔اس کی برکت اللہ تعالیٰ کسی دوسرے کو دے دیتا ہے اور اس کو حاصل ہونے والانفع اب دوسرے کو ملنا شروع ہو جاتا ہے۔لاہور میں ہم کچھ عرصہ رہے ہیں۔وہاں ہم نے دیکھا کہ کبھی کوئی ریسٹورنٹ مقبول ہو جاتا تھا اور کبھی کوئی۔ایک ریسٹورنٹ کی مینجمنٹ (Management) اور انتظام بھی وہی ہوتا تھا ، عمارت بھی وہی ہوتی تھی، فرنیچر بھی وہی ہوتا تھا، باقی سہولتیں بھی وہی ہوتی تھیں، اس کے کھانا پکانے والے بھی وہی ہوتے تھے اور ایک عرصہ تک وہ ہوٹل اپنے مالکوں کے لئے بہت زیادہ آمد کا موجب بنا ہوا تھا۔لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ کی طرف سے یکدم کوئی ایسی تبدیلی پیدا ہو جاتی ، جو انسان کے اختیار اور سمجھ سے باہر ہے اور ہم دیکھتے کہ اس کی مقبولیت جاتی رہی۔لوگوں نے وہاں جانا چھوڑ دیا اورنتیجہ یہ ہوا کہ مالک کو وہ ہوٹل بند کرنا پڑا۔اگر انسان اپنے ماحول پر گہری نظر ڈالے اور فکر و تدبر سے کام لے تو اسے اس قسم کی سینکڑوں مثالیں مل سکتی ہیں۔کوئی ظاہری سبب نظر نہیں آتا لیکن یکدم برکت چھن جاتی ہے۔اسی طرح بعض اوقات اموال میں اور کاروبار میں برکت دے دی جاتی ہے اور اس کا کوئی ظاہری سبب نہیں ہوتا۔ایک انسان عرصہ تک ابتلاءاور مصائب میں مارا مارا پھرتا ہے اور بڑی تکلیف میں زندگی گزارتا ہے۔ایک دن اللہ تعالیٰ اس پر رحم کر دیتا ہے اور اس کے اموال اور کاروبار میں برکت ڈال دیتا ہے۔اس کے نتیجہ میں اس پر فراخی اور کشائش کا دور آجاتا ہے۔ابھی چند دن ہوئے، مجھے اس قسم کی بھی ایک مثال ملی ہے۔ایک دوست مجھے ملنے کے لئے آئے۔انہوں نے مجھے بتایا کہ میں ایک غریب گھرانے کا فرد ہوں، میری آمد بہت کم تھی اور گزارا مشکل سے ہوتا تھا۔لیکن ایک دن اللہ تعالیٰ نے کچھ اس قسم کی تبدیلی پیدا کر دی کہ اب میرے کاروبار میں برکت ہی برکت ہے اور خدا تعالیٰ بہت کچھ دے رہا ہے۔میری غربت اور افلاس کی حالت دور ہوگئی ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے رزق میں فراخی پیدا ہو گئی ہے۔غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مال کو روک رکھنا کہ وہ کسی خاص فرد کو نہ ملے یا مالکو حکم دینا کہ فلاں کے پاس چلے جاؤ، یہ صرف میرا کام ہے اور کسی کا نہیں۔اور اگر یہ میرا کام ہے تو جب بھی کوئی شخص میری راہ میں خرچ کرے گا تو اسے امید رکھنی چاہیے کہ میں جس نے اپنی قدرت کی تاریں ساری دنیا میں پھیلا رکھی ہیں، اسے مایوس نہیں کروں گا بلکہ اس کے مالوں میں اور اس کی زندگی میں زیادہ سے زیادہ برکت ڈالتا چلا جاؤں گا۔29