تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 442
اقتباس از خطاب فرموده 29 اکتوبر 1969ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم مختلف تنظیمیں تمکین دین اور خوف کو امن سے بدلنے کے سامان پیدا کرنے کے لئے بطور ہتھیار کے ہوتی ہیں اور یہ ہتھیار خلیفہ وقت کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ہماری جماعت میں اس وقت مختلف تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔مثلاً صدرانجمن احمد یہ ہے، یہ سب یا امر یہ ہے سب سے پرانی تنظیم ہے اور یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں بھی موجود تھی۔پھر تحریک جدید ہے، حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ نے دنیا بھر میں اشاعت اسلام کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے اور جماعت کی جدوجہد کو تیز اور اس کے جہاد بالقرآن میں ایک شدت پیدا کرنے کے لئے تحریک جدید کو قائم کیا۔پھر وقف جدید ہے۔اسی طرح وقف عارضی کا نظام ہے۔پھر موصیوں کی انجمن ہے ، گو اس کے کام کی بھی ابتدا ہے اور جو اس کی ذمہ داریاں ہیں، ان کو نباہنے کے لئے یہ تنظیم بھی انشاء اللہ اپنے وقت پر نمایاں شکل میں سامنے آجائے گی۔خدام الاحمدیہ کے ساتھ مجلس اطفال الاحمدیہ ہے، اس واسطے میں نے اس کا ذکر نہیں کیا۔پھر لجنہ اماءاللہ کی تنظیم ہے۔یہ تنظیمیں خلیفہ وقت کے ہاتھ میں ایک ہتھیار کی حیثیت میں وو بڑے ہی مفید کام کرتی رہی ہیں اور اب بھی کر رہی ہیں اور انشاء اللہ آئندہ بھی کرتی رہیں گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی واسطے بار بار فرمایا ہے کہ جس طرح صحابہ رضوان اللہ علیہم کے اندر ایک عظیم انقلابی تبدیلی پیدا ہوگئی تھی، میری جماعت کو بھی چاہیے کہ اسی قسم کی روحانی تبدیلی اپنے اندر پیدا کریں۔تاکہ اللہ تعالیٰ کے وعدوں کو وہ بھی اپنی زندگیوں میں پورا ہوتے دیکھ لیں۔اللہ تعالیٰ کے وعدے تو ضرور پورے ہو کر رہتے ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ کے وعدے کسی فرد یا کسی قوم یا کسی خاندان کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے۔چنانچہ قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ اگر تم اپنی ذمہ داریوں کو نہیں نبھاؤ گے تو ہم ایک اور قوم لے آئیں گے، جو اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے والی ہوگی۔خدا تعالیٰ کے وعدے تو پورے ہو کر رہیں گے۔لیکن وہ قوم جس نے اپنی ذمہ داریوں کو نہیں نبھایا، (اور اللہ تعالیٰ کو اس کی جگہ ایک اور قوم کو لا نا پڑا۔وہ تو بڑی ہی بد بخت ثابت ہوئی۔اللہ تعالی نے اس قوم کے لوگوں کو اپنی انتہائی محبت سے نوازنا چاہا مگر انہوں نے اپنے نفس کے موٹاپے کی وجہ سے اس محبت کو ٹھکرادیا اور اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے غضب اور اس کے قہر کا مورد بنالیا۔پس احمدی مسلمان تو ایسی قوم ہے، جو اللہ تعالیٰ کے ایک قادرانہ فعل کے نتیجہ میں پیدا ہوئی ہے۔جو کام اس کے ذمہ لگایا گیا ہے، ( بظاہر کام تو سارے اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے ) وہ تو انشاء اللہ پورا ہوگا۔اسلام کوضر در غلبہ حاصل ہوگا۔دنیا کی کوئی طاقت اس کے راستے میں روک نہیں بن سکتی۔لیکن وہ لوگ بڑے ہی مبارک ہیں ، جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت کی جنتوں میں لانے کے لئے دنیا میں ظاہر یہ کرتا ہے کہ ان کی 442