تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 438 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 438

خطبہ جمعہ فرمود و 24 اکتوبر 1969ء پھر آپ فرماتے ہیں:۔وو تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم قریب ہے کہ سب مالتیں ہلاک ہوں گی مگر اسلام۔اور سب حربے ٹوٹ جائیں گے مگر اسلام کا آسمانی حربہ کہ وہ نہ ٹوٹے گا، نہ کند ہو گا۔جب تک دجالیت کو پاش پاش نہ کر دئے“۔اسی طرح ایک اور جگہ آپ فرماتے ہیں:۔"3 تبلیغ رسالت جلد ششم صفحه 8)۔۔۔دنیا میں ایک ہی مذہب ہوگا اور ایک ہی پیشوا ( یعنی اسلام ہی ساری دنیا کا مذہب اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہی ساری دنیا کے پیشوا ہوں گے۔) میں تو ایک تخم ریزی کرنے آیا ہوں ، سو میرے ہاتھ سے وہ تم بویا گیا اور اب وہ بڑھے گا اور پھولے گا اور کوئی نہیں ، جو اس کو روک سکے۔( تذکرۃ الشہادتین صفحه 65) لیکن اس درخت کی آبپاشی کے لئے اور اس کی حفاظت کے لئے اور اس میں تلائی کرنے کے لئے قربانی آپ نے دینی ہے۔آسمان سے فرشتوں نے آکر یہ کام نہیں کرنا۔اسلام کے غلبہ اور اسلام کی فتح کا بیج تو بو دیا گیا۔لیکن اگر وہ بیج اپنی نشو و نما کے لئے ہماری جانیں مانگے تو ہمیں جانیں قربان کر دینی چاہئیں۔اگر وہ درخت یہ کہے کہ اے احمد یو! میں نے تمہارے خون سے سیراب ہونے کے بعد بڑھنا اور پھولنا ہے اور پھل دینے ہیں تو احمد یوں کو اپنے خون پیش کر دینے چاہئیں۔اگر ہم سے یہ مطالبہ ہو کہ تمہارے روپے کی ضرورت ہے تو ہمیں اپنے اموال پیش کر دینے چاہئیں۔تاکہ ساری دنیا میں اسلام کے مبلغ پہنچیں اور وہاں اللہ تعالیٰ کا نام بلند کریں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسلام کی صداقت میں جوز بر دست دلائل دیتے ہیں، وہ دنیا کے سامنے پیش کریں۔اور پھر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے (جیسا کہ اب بھی بعض سے یہی سلوک ہوتا ہے ) ان کے ذریعہ سے غافل اور اندھیرے میں بسنے والے بندوں کو آسمانی نشان بھی دکھائے۔جہاں بھی اس نیت کے ساتھ ایک احمدی مبلغ پہنچا ہے، اللہ تعالیٰ کی تائیدات کے اس نے حیران کن نظارے دیکھے ہیں۔اور جن کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ اپنے ان بندوں کے دلوں میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور عشق پیدا کرتا ہے۔پس تخم تو بویا گیا، یہ بڑھے گا اور پھولے گا اور ثمر آور ہوگا۔لیکن اس تخم کی نشو و نما کے لئے ، جس چیز کی بھی ضرورت ہے، اس کو ہم نے پیش کرنا اور مہیا کرنا ہے۔غرض یہ عظیم بشارتیں ہیں، جو ہمیں دی گئی ہیں۔اور عظیم قربانیاں ہیں، جن کا ہم سے مطالبہ کیا گیا ہے۔438