تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 428 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 428

خطبہ جمعہ فرموده 17 اکتوبر 1969ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم ہوتا اور جس کا سینہ صرف اور صرف اپنے رب کی محبت سے معمور ہوتا ہے۔اور چونکہ اللہ تعالیٰ سمیع اور علیم ہے، اس لئے کوئی مشرک ہو یا اہل کتاب، منکر ہو یا منافق اور ست عقیدہ ، اس کی کوششیں کامیاب نہیں ہوتیں، اس کی خواہشات پوری نہیں ہوتیں۔بلکہ ان لوگوں کے اعمال ثمر آور ہوتے ہیں، جو اپنی دعاؤں سے اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ کوئی غیر تمہاری مدد کو نہیں آئے گا۔کیونکہ تم نے ہر غیر کو انذار اور انتباہ کر دیا ہے کہ ان کے اعمال اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل نہیں کر سکتے ، ان کا اعتقاد اللہ تعالیٰ کو پسندیدہ نہیں ہے۔تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ظلیت میں نذیر بھی ہو۔تمہارا یہ کام ہے کہ تم منکرین کو اور منافقوں اورست اعتقاد والوں کو جھنجھوڑتے رہو۔تم انہیں تنبیہ کرتے رہو، تم انہیں بتلاتے رہو کہ جن راہوں پر تم چل رہے ہو، وہ اللہ سے دوری کی راہیں ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کے قرب کی راہیں نہیں ہیں۔تم ان بتوں کے خلاف جہاد کرتے ہو، جنہیں وہ خدا کا شریک بناتے ہیں۔تم ان کے ان موٹے نفسوں کے خلاف جہاد کرتے ہو، جن کو انہوں نے خدا کا شریک بنالیا ہے۔تم دلیل کے ساتھ تم عاجزانہ راہوں کے اختیار کرنے کے ، خوش شمر حاصل کرنے کے بعد انہیں بتاتے ہو کہ تمہارا تکبر کسی کام نہیں آئے گا۔تم ان کے غرور کا سر توڑتے ہو، تاکہ ان کی روح اللہ تعالیٰ کے غضب سے محفوظ رہے۔وہ تم سے محبت کیسے کر سکتے ہیں؟ وہ تمہاری مدد اور نصرت کے لئے کیسے آسکتے ہیں؟ پس تم نے ہی وہ سب کچھ کرنا ہے، جو کرنا ہے۔تم نے ہی وہ تمام ذمہ داریاں اپنی کوششوں اور اپنی دعاؤں اور اپنی قربانیوں اور اپنی تدبیروں کے ساتھ نبھانی ہیں، جو اللہ تعالیٰ نے تم پر ڈالی ہیں۔اور خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ ہم تمہیں یہ بتاتے ہیں۔وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ يَّعْلَمُهُ اللهُ یہ یا درکھو کہ ہر وہ کام، جس کے نتیجہ میں آسمان سے خیر نازل ہوتی ہے، وہ خدا سے پوشیدہ نہیں رہے گا۔اس لئے یہ خوف نہیں کہ کوئی حقیقی نیکی یا کوئی مخلصانہ قربانی ضائع ہو جائے گی۔کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے۔مگر تمہارے لئے یہ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو قابلیتیں اور قوتیں عطا کی ہیں تم ان کا صحیح استعمال کرو۔(وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْر ) تبھی تمہارے افعال ثمر آور ہوں گے اور وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کریں گے۔اور جو مخلصانہ کوششیں تم کرو گے، (تَجِدُوهُ عِندَ اللهِ ) اللہ تعالیٰ ان کی جزا دے گا۔ایک تو یہ کہ اس کے علم میں ہوگا اور دوسرے یہ کہ اس کا علم ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے۔اس 428