تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 426 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 426

خطبه جمعه فرموده 17 اکتوبر 1969ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اسی لئے فرمایا کہ وہ لوگ ، جو اسلام کے منکر ہیں، مشرکین میں سے ہوں یا اہل کتاب میں سے ، وہ ہر گز اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے جو بشارتیں امت مسلمہ کو دی ہیں، ان بشارتوں کی امت مسلمہ وارث ہو۔یہاں محض خیر " کا لفظ نہیں کہا گیا۔بلکہ اس خیر کا ذکر کیا گیا ہے، جو آسمان سے نازل ہوتی ہے۔ویسے تو ہر خیر ہی آسمان سے نازل ہوتی ہے۔لیکن بعض بھلائیاں ، بعض بہتریاں اور بعض کا میابیاں آسمان سے نازل بھی ہوتی ہیں اور ان کے نزول کی بشارت بھی دی جاتی ہے۔اور اسی طرف اس آیت میں اشارہ ہے، جو میں نے تلاوت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسلام کے غلبہ کے متعلق بڑی عظیم بشارتیں دی ہیں۔ان بشارتوں کا تعلق آپ کی نشاۃ اولی سے بھی ہے اور ان کا تعلق آپ کی نشاۃ ثانیہ یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ سے بھی ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو اس طرف متوجہ کیا ہے کہ آسمان سے فیصلہ ہوا کہ اس طرح ہم اپنے دین کو دنیا پر غالب کریں گے۔آسمان سے بشارت ملی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے کامل اور بچے متبعین دنیا میں غالب آئیں گے اور اسلام کی حکومت ساری دنیا پر ہوگی۔یہ لوگ جن کا تعلق مشرکین اور اہل کتاب سے ہے، جو اسلام کا انکار کر کے اس کی حقانیت اور صداقت کو تسلیم نہیں کرتے ، یہ صرف یہ نہیں چاہتے کہ اسلام غالب نہ ہو بلکہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ جو باتیں انہیں اللہ کی طرف منسوب کر کے سنائی جاتی ہیں، وہ بھی مسلمانوں کے حق میں پوری نہ ہوں۔اور ان کو یہ پسند نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی محبت اور اللہ تعالیٰ کا فضل اور اللہ تعالیٰ کی رحمت نے اسلام کو جو بشارتیں دی ہیں، ( وہ آسمان سے نازل ہوئیں اور آسمان سے ان کے نتیجہ میں دنیا میں ایک عظیم انقلاب بپا ہونے کا وعدہ ہے ) وہ بشارتیں امت مسلمہ کے حق میں ، وہ بشارتیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں، وہ بشارتیں آپ کے کامل اور بچے متبعین کے حق میں پوری ہوں۔پس یہ امید نہیں رکھی جاسکتی کہ جو مشرک یا اہل کتب میں سے منکر ہیں، ان کی مدد سے مسلمان اس مقصود کو حاصل کر سکیں، جو مقصودان کے سامنے رکھا گیا ہے۔یہی نہیں کہ یہ لوگ کوئی مدد نہیں کریں گے بلکہ مخالفت کریں گے۔اور اس حد تک ضد سے کام لیں گے کہ نہ صرف انسان کے اپنے منصوبے، جو اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق وہ بناتا ہے، ان کے راستہ میں روڑے اٹکائیں گے بلکہ ان بشارتوں کے راستہ میں بھی روڑے اٹکا ئیں گے، جن کے متعلق یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ آسمان سے آئی ہیں۔یا جن کے متعلق ان کے دلوں میں یہ شبہ ہے کہ شاید یہ آسمان سے آئی ہوں۔لیکن اس یقین کے باوجود کہ ان بشارتوں کا انکار نہیں کیا جا سکتا، شبہ میں پڑے ہوئے ہیں اور پھر بھی یہ کوشش کرتے ہیں کہ یہ بشارتیں امت مسلمہ کے حق میں پوری نہ ہوں۔426