تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 412 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 412

خطبه جمعه فرمود و 10 جنوری 1969ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم یعنی میرا یہ وعدہ ہے کہ اس دنیا میں بھی جنت بعض لوگوں کے اس قدر قریب کر دی جائے گی کہ وہ اس دنیا کی حسوں کے ساتھ اسے محسوس کرنے لگیں گے۔اور میرا یہ وعدہ ان لوگوں کے لئے ہے، جو میرے حضور جھکتے ہیں ، اواب ہیں۔اور (حفیظ) وہ صرف منہ کے دعویٰ سے شریعت کی حفاظت کرنے والے نہیں بلکہ وہ صحیح طور پر اور حقیقی معنی میں شریعت کی حفاظت کرتے ہیں۔جہاں تک ان کی زندگی کا تعلق ہے، وہ شریعت پر عمل کر کے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔اور جہاں تک دوسروں کا تعلق ہے، وہ معروف کا حکم دے کر اور منکر سے روکنے کے ساتھ شریعت کی حفاظت کرتے ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ شریعت کی حفاظت وہی شخص کر سکتا ہے، (مَنْ خَشِيَ الرَّحْمَنَ بِالْغَيْبِ وَجَاءَ بِقَلْبٍ مُّنِيبٍ) جسے رحمان خدا اس کی کسی خوبی یا عمل کے نتیجہ میں نہیں بلکہ محض بخشش اور عطا کے طور پر ایک گداز اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا اور اس کی عظمت کو پہچانے والا دل عطا کرتا ہے۔اور خشیت کا یہ دعویٰ محض ایسا دعویٰ نہیں، جو صرف لوگوں کے سامنے کیا جائے۔بلکہ مَنْ خَشِيَ الرَّحْمَنَ بِالْغَيْبِ اس کی تنہائی کی گھڑیاں اور اس کا باطن ، اس کے ظاہر کو اور اس کے ان لمحات کو ، جو وہ اجتماعی طور پر گزارتا ہے، جھٹلاتا نہیں۔مَنْ خَشِيَ الرَّحْمَنَ بِالْغَيْبِ جس طرح اجتماع میں ، لوگوں سے میل ملاقات اور معاشرہ کی ضروریات پورا کرتے وقت وہ اپنے دل کی خشیت کو اپنے عمل سے ظاہر کرتا ہے، اسی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ تنہائی کی گھڑیوں میں اپنے رب کے حضور اس کی عظمت کا اقبال کرتے ہوئے اور اس کے جلال کا احساس رکھتے ہوئے ، وہ اس کی خشیت اپنے دل میں رکھتا اور اس کے مطابق اپنے رب کے حضور اواب بنتا ہے۔یہ وہ قلب ہے، جسے قلب منیب کہا جا سکتا ہے۔اور یہ وہ قلب سلیم اور قلب منیب ہے، جو ایک مربی کے دل میں دھڑکنا چاہئے۔اگر ایک مربی کے دل میں ایک قلب منیب نہیں دھڑکتا، اگر اس کا دل تنہائی کے لمحات میں بھی خشیت اللہ سے بھرا ہوا اور لبریز نہیں، اگر اس کا دل تنہائی کی گھڑیوں میں بھی اور میل ملاپ کے اوقات میں بھی اللہ تعالیٰ کی خشیت کے نتیجہ میں بنی نوع کی ہمدردی میں گداز نہیں تو پھر ایسا شخص، جو اس قسم کا دل رکھتا ہو، حفیظ نہیں۔یعنی شریعت کی حفاظت کرنے والا نہیں۔حالانکہ ہر مربی کا یہ دعویٰ ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے (نہ اپنی کسی خوبی کے نتیجہ میں ) حفیظ ہوں، میرے سپر د شریعت کی حفاظت ہے اور میں نے اپنی زندگی اس کام کے لئے وقف کر دی ہے۔لیکن اگر اس کا عمل ایسا نہیں ، اگر اس کے اندر ریا پائی جاتی ہے، اگر اس کے اندر کبر پایا جاتا ہے، اگر اس کے اندر خدا تعالیٰ کی مخلوق کی ہمدردی نہیں، ان کے ساتھ پیار نہیں، تعلق نہیں، اگر ان کی جسمانی اور روحانی تکلیف دیکھ کر اس کا دل تڑپ نہیں اٹھتا، اگر ایسے 412