تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 411 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 411

خطبہ جمعہ فرموده 10 جنوری 1969ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم وسیع معانی رکھتی ہے۔لیکن اس وقت میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ قرآن کریم کا نزول اس لئے بھی ہے کہ دلوں کو گداز کیا جائے اور فطرت انسانی کے اندر جو خشیت اللہ کا جذبہ رکھا گیا ہے، اس کی ترقی اور ارتقاء کے سامان پیدا کئے جائیں۔جس طرح آنکھ بغیر بیرونی روشنی کے دیکھ نہیں سکتی ، جس طرح عقل بغیر انوار آسمانی کے ناقص رہ جاتی ہے اور وہ اپنے کمال کو حاصل نہیں کر سکتی، اسی طرح دل بھی وہی دل ( قلب سلیم) ہے کہ جو قر آنی برکات سے اللہ تعالیٰ کی خشیت اس رنگ میں اپنے اندر رکھتا ہو، جس رنگ میں کہ خدا چاہتا ہے کہ وہ خشیت اللہ سے کام لے۔سورۃ الحج میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَإِلَهُكُمْ إِلَهُ وَاحِدٌ فَلَةَ أَسْلِمُوا وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِيْنَ ) الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ (آیات: 35,36) یعنی تمہارا خدا اور معبود خدائے واحد و یگانہ ہے۔اس لئے (أَسْلِمُوا) اپنا سب کچھ اس کے حضور پیش کر دو۔اور اس کے حضور اس طرح اپنی گردن کو جھکا دو، جس طرح ایک بکر اقصاب کی چھری کے سامنے مجبور ہو کر اپنی گردن جھکا دیتا ہے۔تم طوعاً اور بشاشت کے ساتھ اسلام کے تقاضوں کو پورا کرنے والے بن جاؤ۔وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِينَ اور ہم اس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ان لوگوں کو اپنے انعامات کے حصول کی خوشخبری دیتے ہیں، جو خدا تعالیٰ کے سامنے عاجزی کرنے والے ہیں۔اور اللہ تعالٰی کے سامنے عاجزی وہ کرتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا نام لیا جائے تو اس کا دل کانپ اٹھتا ہے، اس کا دل گداز ہو جاتا ہے۔جس کا دل صحیح معنی میں اور حقیقی طور پر گداز نہیں، وہ محبت اور عاجزی کرنے والا نہیں بن سکتا۔اور جو عاجز نہیں، جو محبت نہیں ، وہ اسلام کے تقاضوں کو پورا نہیں کر سکتا۔اور جو مسلمان نہیں ، وہ خدائے واحد و یگانہ کی پرستش نہیں کرتا۔پس ایک مربی کو دوسروں کی نسبت زیادہ گداز دل ہونا چاہئے۔اسی لئے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم دعوی کرتے ہو کہ ہماری اس شریعت کی حفاظت کا کام تمہارے سپرد کیا گیا ہے، اگر تمہارا یہ دعویٰ ہے تو اس دعوی کا جو تقاضا ہے، اسے پورا کرو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔هُذَا مَا تُوعَدُونَ لِكُلِّ أَوَّابٍ حَفِيظٌ مَن خَيْقَ الرَّحْمَن بِالْغَيْبِ وَجَاءَ بِقَلْبٍ منيبة (ق:33,34) 411