تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 395
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اقتباس از تقریر فرموده 07 اپریل 1968ء میں نے پہلے تمہید میں بتایا ہے کہ میرے مخاطب صرف آپ نہیں بلکہ دنیا کے ہر ملک میں بسنے والے احمدی میرے مخاطب ہیں۔اور ان کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ جہاں جہاں اور جس رنگ میں بھی آپ کے خلاف تعصب ظاہر ہو، اس کے ضرر سے بچنے کی، جو تدبیر خدا تعالی دعاؤں کے بعد آپ کو سمجھائے ، اس تدبیر کو اختیار کریں اور گھبرائیں نہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بڑی وضاحت سے ہمیں پہلے سے یہ اختباہ کیا تھا کہ تمہیں گالیاں سننی پڑیں گی، اہل کتاب بھی اور مشرک بھی بڑی ایزاد ہی کریں گے، بدزبانی اور گالیوں کے ساتھ ، اس وقت تم صبر سے کام لینا۔تب تمہیں بشارتیں ملیں گی ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔غرض گالی کا جواب گالی سے نہیں دینا، تمسخر کے مقابلہ میں تمسخر نہیں کرنا۔کوئی سختی کرے تو اس پر ختی نہیں کرنی۔یہ وقت آپ کے لئے اصولی طور پر مظلوم رہنے کا وقت ہے۔اور اللہ تعالیٰ کی تمام نفرتیں اور رحمتیں آپ کے ساتھ رہیں گی ، جب تک آپ مظلوم بنے رہیں گے۔ظالم نہیں بنیں گے۔اگر آپ میں سے کوئی شخص ظالم بن جائے تو وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نصرت سے محروم ہو جائے گا۔گالی کے سلسلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص بڑا سخت بد زبان مخالف قادیان میں آئے اور ایک سال ہمارے پاس رہے اور جو بھی منہ میں اس کے آتا ہے، ہمارے خلاف کہے تو تب بھی ہم اس کی گالیوں کی کوئی پرواہ نہیں کریں گے۔گالی دینے والا انسان گالیوں سے اپنی بداخلاقی اور گندی ذہنیت کا اظہار کر رہا ہوتا ہے۔آپ کے دل میں اس کے لئے رحم پیدا ہونا چاہیے۔آپ کی زبان پر اس کے لیے دعائیں جاری ہونی چاہئیں۔آپ کا سر اس کی خاطر اپنے رب کے حضور جھکنا چاہئے کہ اے خدا! تیرا یہ بندہ تیری بندگی سے چلا گیا اور تیرے آستانہ کو چھوڑ گیا۔تو اس پر رحم کر اور اپنا چہرہ اسے دکھا اور پھر دین اسلام کی طرف اسے واپس لے کے آ، یا دین اسلام کی طرف اسے واپس لا۔غرض بغیر زیادتی کے امن کے ساتھ صلح کے ساتھ ، فساد کی سے دور ہر راہ سے بچتے ہوئے ، ہر احمدی دنیا کے جس ملک میں رہتا ہو، اپنی زندگی کے دن گزارے۔دنیا کا تعصب ہماری کامیابی کو آج نہیں روک سکتا۔جیسا کہ پچھلے 75 سال دنیا کے تعصب نے احمدیت کی کامیابی کو نہیں روکا۔یہ چیزیں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کہنے کے مطابق ہمارے لئے کھا د کا کام دیتی ہیں۔جب اللہ تعالیٰ مخالفت کو زیادہ کرتا، تعصب کو زیادہ بڑھا تا ظلم اور بھی تیز ہونے دیتا ہے تو وہ وقت ہوتا ہے، جب آسمانوں پر یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ خاص تائیدات اس گروہ یا اس جماعت کے ایک حصہ کے متعلق آسمان سے نازل ہوں۔اگر ہم آج مظلومیت کو چھوڑ کر ظالم بن جائیں تو مشرک ٹھہریں گے۔ہم نے یہ سوچا کہ ہم اپنی تدبیر اور اپنے زور اور اپنے پیسہ سے اپنے مخالف کا مقابلہ کر 395