تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 394 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 394

اقتباس از تقریر فرموده 07 اپریل 1968 ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم کام ہیں، جو وہ کر رہے ہیں۔اور بڑی رو وہاں پیدا ہورہی ہے۔اور ان ملکوں میں پادریوں کے دلوں میں بڑی فکر پیدا ہورہی ہے۔اس وقت تک پادری تعصب سے کام اس لئے نہیں لیتے تھے کہ ان کو اس کی ضرورت پیش وو نہیں آئی تھی۔لیکن جہاں ان کو ضرورت پیش آتی ہے، عیسائیت قتل کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتی۔غرض یہ نہیں کہ عیسائیت سے تعصب نکل چکا ہے۔بلکہ عیسائیت کو تعصب کے استعال کی ضرورت ہی نہیں تھی۔مفت کا وہ فائدہ اٹھاتے رہے ہیں اور یہ کہتے رہے ہیں کہ ہم بڑے بردبار ہیں، ہم میں کوئی تعصب نہیں۔لیکن جس وقت ان پر کاری حملہ ہوتا ہے تو سارا تعصب جوش میں آنے لگ جاتا ہے۔اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ یورپ کے عیسائی ممالک نے جب یہ دیکھا کہ احمدیت جو دلائل اسلام کی صداقت کے لئے ان ملکوں میں پیش کر رہی ہے، ان کا جواب ان کے پاس نہیں اور آسمان سے فرشتوں کے نزول کے بعد دلوں میں جوتبدیلی پیدا ہورہی ہے، اس کو روکنے کا ان کے پاس کوئی سامان نہیں تو وہ قتل و غارت پر ضرور اتر آئیں گے اور اس وقت ہمارے احمدیوں کو وہاں غالبا اپنی جانی قربانیاں دینی پڑیں گی۔اور جو میں نے اپنے بھائیوں اور اپنی بہنوں کو دیکھا، دیکھنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں (رویا کے ذریعہ نہیں ) سکون اور بشاشت پیدا کی ہے کہ یہ لوگ وقت آنے پر قربانیاں دیں گے اور بزدلی نہیں دکھائیں گے۔تعصب بہت جگہ ظاہر ہو گا۔کئی جگہ ایسا تعصب بعض علاقوں میں ہوتا ہے کہ حکومت تو متعصب نہیں ہوتی لیکن ہر فرد تو حکومت کی پالیسی کے ساتھ تعاون نہیں کر رہا ہوتا۔بعض متعصب لوگ، غیر متعصب حکومت میں تعصب کا بڑا گندا مظاہرہ کرتے ہیں۔مثلاً آپ لٹریچر ڈاک میں بھیجیں گے تو وہ عام طور پر چلا جائے گا۔لیکن محکمہ جات میں بعض ایسے متعصب ہوں گے کہ جب ان میں کسی کو اس کا پتہ لگے گا تو وہ پڑھ کر پھینک دیں گے۔یا بعض بددیانت ہوں گے، جیسا کہ غالباً میں نے کل بھی ذکر کیا تھا۔لیکن مجھے ایسا بھی علم ہے کہ بعض متعصب لٹریچر پھاڑ کر پھینک دیتے ہیں۔جہاں یہ حالات ہوں، اللہ تعالیٰ نے ہمیں فراست دی ہے، وہاں ہمیں ڈاک کو استعمال نہیں کرنا چاہیے۔بلکہ دوسرے ذرائع کو استعمال کرنا چاہیے۔کیونکہ پیغام تو ہم نے بہر حال پہنچانا ہے، اس سے دنیا ہمیں روک نہیں سکتی۔سارے دروازے بند ہو جاتے ہیں تو بعض واقف کار آدمی ملتے ہیں تو وہ زبانی بات سنتے ہیں، ان پر اثر ہو جاتا ہے۔کوئی خواب دیکھتا ہے تو اس طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔انہیں دنوں (اسی سال ) بہت سارے لوگ احمدی ہوئے ہیں، کچی خوا ہیں دیکھ کر۔اور ان خوابوں کا دل پر اثر ہونے کے نتیجہ میں۔سچی خواب کی یہ علامت بھی ہوتی ہے کہ خواب دیکھ کے انسان سمجھتا ہے کہ یہ واقعی خدا کی طرف سے ہے اور مجھے اس حکم کی تعمیل کرنی چاہیے۔394