تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 377
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرمودہ 25 اکتوبر 1968ء ہے اور بشاشت سے وہ قربانی نہیں دیتا۔تو مال تو اس کے پاس اس وقت تک ہی ہے، جب تک اللہ تعالیٰ اس کے پاس اس مال کو رہنے دے۔بعض دفعہ اس کے گھر کو آگ لگ جاتی ہے۔اس کا دس پندرہ ہزار یا ہیں، تمہیں ہزار روپیہ کا کپڑا آ رہا ہوتا ہے، وہ کپڑا ٹرک سے چوری ہو جاتا ہے۔وہ مال خرید نے جاتا ہے تو کوئی جیب کترا اس کی جیب سے رقم نکال کر لے جاتا ہے۔پھر وہ سوچتا ہو گا کہ کاش میں یہ مال خدا کی راہ میں پیش کر دیتا۔اور اگر انسان بخل سے کام نہ لے تو پھر اللہ تعالیٰ اس کے مال میں برکت دیتا اور اسے بتاتا ہے کہ میں تمہارے مال کی حفاظت کر رہا ہوں۔ابھی پچھلی گرمیوں کی بات ہے، ایک دوست مری کے قریب ، جہاں میں چند دن کے لئے گیا ہوا تھا، ملنے کے لئے آئے۔وہ زمیندار ہیں۔ان سے باتیں ہوئیں، انہوں نے دعا کے لئے کہا۔میں نے کہا، اللہ تعالیٰ نے تمہیں دولت دی ہے، ہم قرآن کریم کے تراجم کی اشاعت کے لئے کوئی غیر معمولی رقم دوتا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے مال میں اور بھی برکت دے۔تو وہ کہنے لگے کتنی ؟ میں نے کہا، یہ میں نے نہیں بتانا۔میں سمجھتا ہوں کہ اس سے تمہارے ثواب میں کمی آجائے گی۔تم اپنی بشاشت اور خوشی کے ساتھ جتنادینا چاہو، دے دو۔چنانچہ انہوں نے اپنے ایک عزیز کو بہت سی رقم دی۔زیادہ تر رقم پانچ ، پانچ سو کے نوٹوں پر مشتمل تھی۔تھوڑی سی رقم رو پید رو پید، پانچ پانچ روپے یا دس دس روپے کے نوٹوں کی شکل میں تھی۔اور اسے کہا کہ ربوہ جا کر پانچ سورو پید اشاعت تراجم قرآن کریم کے لئے حضرت صاحب کی خدمت میں پیش کر دیں۔انہوں نے شاید کوئی زمین خریدی تھی اور وہاں ادائیگی کرنی تھی۔انہوں نے اپنے اس عزیز کو کہا کہ باقی رقم وہاں ادا کر دیں۔ان کا وہ عزیز جب میرے پاس آیا تو اس نے بتایا کی دیکھیں، اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے سے برکت کیسے حاصل ہوتی ہے۔میرے جیب میں یہ رقم تھی، مجھے یاد نہیں، اس نے جیب کترا کہا یا چور کا نام لیا۔بہر حال اس نے بتایا کہ جس جگہ پانچ، پانچ سو نوٹوں پر مشتمل رقم پڑی تھی، وہیں وہ رقم بھی تھی، جو رو پید رو پید، پانچ پانچ یادوس دس روپیہ کے نوٹوں پر مشتمل تھی۔چور نے یہ تھوڑی رقم تو چوری کر لی اور بڑی رقم چھوڑ کر چلا گیا۔وہ کہنے لگا، ہم نے اللہ تعالیٰ کے رستہ میں دی ہوئی رقم کی برکت دیکھ لی۔گوا بھی انہوں نے وہ رقم خدا کی راہ میں دینے کی نیت ہی کی تھی ، ابھی وہ رقم خدا تعالیٰ کے خزانہ میں نہیں پہنچی تھی۔غرض اللہ تعالیٰ بتاتا ہے کہ میں ہی تمہارے اموال کی حفاظت کر رہا ہوں۔اگر میں حفاظت نہ کروں تو انہیں آگ لگ جائے، وہ چوری ہو جائیں یا گھر میں کسی کو بیماری آجائے اور اس پر اموال کا ایک حصہ خرچ ہو جائے۔مثلاً بڑا پیارا بچہ بیمار ہو جائے۔باپ امیر آدمی ہے، اس کو ہم نے کہا کہ تحریک جدید 377