تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 360 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 360

اقتباس از خطبہ جمعہ فرمود : 18 اکتوبر 1968ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم کی دی ہوئی توفیق سے صفات باری کا مظہر بنتا ہے۔اگر خدا کا سہارا نہ ہوتو پھر خدا تعالیٰ کی صفات کا کون مظہر بن سکے؟ ہاں، جب اللہ تعالیٰ خود اپنا سہارا دیتا ہے اور اپنے فضل سے نوازتا ہے تو انسان اس کی صفات کاملہ کا محدود دائرہ میں اور طفیلی طور پر مظہر بھی بنتا ہے اور اپنی اپنی استعداد کے مطابق بنتا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، الغنی یعنی کامل عناوالی ذات تو اللہ کی ہے۔اور وہ غنی ہونے کے لحاظ سے تمہار احتاج نہیں۔اور الغنٹی کے اندر یہ مفہوم بھی آگیا (جس کو پہلے فقرہ میں کھول کر بیان کیا گیا تھا) کہ تم میں سے ہر ایک کو اس کی احتیاج ہے۔تم زندہ نہیں رہ سکتے ، جب تک حی خدا تمہاری زندگی کی ضرورت کو پورا کرنے والا نہ ہو اور اپنی حیات کا ملہ سے تمہیں ایک عارضی زندگی نہ عطا کرے۔تمہاری استعداد میں اور قو تیں قائم نہیں رہ سکتیں، جب تک کہ خدائے قیوم کا تمہیں سہارا نہ ملے۔سب تعریفوں کی مالک اس کی ذات ہے، اس لئے وہ تمہاری احتیا جوں کو پورا کرتا ہے اور تمہارے دل سے یہ آواز نکلتی ہے کہ الحمد لله تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے چونکہ تم اس کے محتاج ہو اور وہ تمہار احتاج نہیں ، اس لئے تم اپنی فکر کرو۔اِنْ يَّشَأْ يُذْهِبْكُمْ اگر وہ چاہے تو روحانی حیات سے تمہیں محروم کر دے۔وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ اور ایک اور ایسی قوم پیدا کر دے، جو اپنے کو اس کے لئے فنا کر دے اور اس میں ہو کر ایک نئی زندگی پائے۔خلق جدید کا ایک نظارہ دنیا دیکھے گی۔پھر وہ اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہو جائیں گے۔جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے فنافی الرسول او فنافی اللہ کے نتیجہ میں ایک نئی زندگی پائی اور ان کی خلق جدید ہوئی۔یہودیوں کے برعکس ان کا یہ حال تھا کہ ایک موقع پر ایک جنگ کی تیاری کے لئے بہت سے اموال کی ضرورت تھی اور ان دنوں کچھ ملی تنگی بھی تھی۔اور دنیا ایسی ہی ہے، کبھی فراخی کے دن ہوتے ہیں اور کبھی تنگی کے دن ہوتے ہیں۔اس موقع پر بھی تنگی کے ایام تھے اور جنگی ضرورت تھی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کے سامنے ضرورت حقہ کو رکھا اور مالی قربانیاں پیش کرنے کی انہیں تلقین کی۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ تو اپنا سارا مال لے کر آگئے ، حضرت عمرؓ اپنا نصف مال لے کر آ گئے، حضرت عثمان نے عرض کیا کہ میری یہ پیشکش قبول کرلی جائے کہ میں دس ہزار صحابہ کا پورا خرچ برداشت کروں گا اور اس کے 360