تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 333
تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 29 دسمبر 1967ء پر ابتدائی زمانہ میں ایمان لائے تھے۔اور ان قربانیوں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک نور دنیا کے لئے پیدا کیا۔جماعت نے ترقی کی۔اللہ تعالیٰ کے فضل اس طرح نازل ہوئے کہ وہ جس کی آواز اپنے گاؤں کی گلیوں میں بھی نہیں گونجی تھی ، آج اس کی آواز ساری دنیا کی فضا میں گونج رہی ہے۔اور یہ تو ایک مثال ہے، جس زاویہ سے بھی آپ دیکھیں گے، آپ کو یہی نظر آئے گا۔یہ نتیجہ ہے، ان قربانیوں کی قبولیت کا، جو ابتدائی زمانہ میں ایمان لانے والوں نے ان اندھیری راتوں میں دیں۔اور انہیں اللہ تعالیٰ نے قبول کیا۔لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت میں بڑی وسعت ہے، وہ زمانہ کے بدلے ہوئے حالات کے ساتھ ساتھ قربانیوں کو بھی بڑھاتا چلا جاتا ہے۔اب اس زمانہ میں قربانیاں اور قسم کی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کر دیئے آپ کے لئے کہ آپ کو قربانیوں کے اس مقام پر کھڑا نہیں رہنے دیا۔بلکہ اپنے بندوں کو ، جنہیں اس نے خلافت کے مقام پر کھڑا کیا، بہت سے منصوبے سکھائے۔اور اس نے آپ کو قربانیوں کے میدان میں آگے سے آگے پہنچا دیا۔حضرت خلیفہ اول کی زندگی کے حالات کو دیکھیں، کس طرح آپ نے جماعت کے استحکام اور ترقی کی تدابیر کیں اور جماعت سے قربانیاں لیں۔پھر ایک لمبا زمانہ خلافت ثانیہ کا ہے ، حضرت مصلح موعودؓ کی خلافت کا۔اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ خلافت میں بھی آپ کو قربانی کے ایک مقام پر کھڑا نہیں رہنے دیا۔بلکہ حضرت مصلح موعودؓ کے ذہن میں نئے سے نئے منصوبے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اور اسی کے ارادے سے اور اسی کے سکھانے سے آئے۔اور حضور نے جماعت کو قربانی کے میدان میں آگے سے آگے دھکیلا۔تا کہ اس زمانہ کے احمدیوں کی قربانیوں کی مشابہت صحابہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ حضرت مسیح موعود کی قربانیوں سے ایک حد تک ہو جائے۔تا اس قسم کے انعامات کے یہ بھی وارث ہوں۔اب یہ خلافت ثالثہ کا زمانہ ہے۔اور یہ تو اللہ تعالیٰ کو ہی معلوم ہے کہ کتنا لمبا عرصہ یہ رہے گا۔لیکن آج میں ایک بات آپ کو بتا دیتا ہوں اور وہ یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ اسلام کو تمام دنیا میں غالب کرنے کی جو آسمانی مہم شروع کی گئی تھی ، آج وہ ایک نہایت ہی اہم اور نازک دور میں داخل ہو چکی ہے۔اور جماعت احمدیہ کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ آئندہ کم و بیش تمہیں سال تک اپنی قربانیوں کو انتہا تک پہنچائے۔نیز اپنی دعاؤں کو انتہا تک پہنچائے۔تا اللہ تعالیٰ ان قربانیوں اور ان دعاؤں کو قبول کرے اور وہ مقاصد حاصل ہوں، جن مقاصد کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کو کھڑا کیا ہے۔پس کم و بیش 30 سال کا عرصہ بڑا ہی اہم ہے۔بڑا ہی اہم ہے اور ہم سے انتہائی قربانیوں کا 333