تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 332 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 332

اقتباس از خطبه جمعه فرمود و 29 دسمبر 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم سے انتہائی قربانیاں لے رہا تھا۔اس وعدہ کے ساتھ کہ میں تمہارے لئے اپنی تقدیر کی تاریں ہلاوں گا اور و اتنے انعامات دوں گا ، اتنے فضل تم پر نازل کروں گا ، آسمان سے تم پر نور کی کچھ اس طرح بارش برسے گی کہ یہ سب اندھیرے کا فور ہو جائیں گے اور مٹ جائیں گے۔اور شیطان اپنے تمام اندھیروں اور ظلمتوں کے ساتھ بھاگ جائے گا اور حق اپنے تمام نوروں کے ساتھ دنیا میں قائم ہو جائے گا۔پس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ ليلة القدر کا زمانہ تھا۔اس معنی میں کہ اگر چہ شیطان انسانی روحوں پر پوری طرح غالب آگیا تھا اور مسلمانوں کو انتہائی قربانیاں اس وقت دینی پڑی تھیں۔لیکن لیلة القدر کے اس زمانہ میں ہمارے رب نے یہ فیصلہ کیا کہ ان تمام اندھیروں کو دنیا سے مٹادیا جائے گا۔اور وہ، جو اپنے فیصلوں پر قادر اور وہ، جو اپنے وعدوں کو وفا کرنے والا ہے، اس نے وہ تمام اندھیرے دنیا سے مٹادئیے۔اور اس طرح اسلام کا نور تمام دنیا پر چھا گیا کہ معلوم دنیا میں سے کوئی علاقہ ایسانہ رہا، جو اسلام کے نور سے محروم ہو۔اس کے بعد پھر تنزل کا ایک زمانہ آیا کیونکہ اسلام کی روح کو مسلمان بھول چکا تھا۔لیکن اب پھر اللہ تعالیٰ نے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا زمانہ پیدا کیا۔اور اس زمانہ میں ہمیں بھی پیدا کیا۔حضرت مسیح موعود کا زمانہ بھی لیلۃ القدر ہی کا زمانہ ہے۔جس زمانہ کے متعلق الہی تقدیر ہے کہ اسلام کو تمام ادیان باطلہ پر غالب کیا جائے گا اور دنیا کی تمام اقوام محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کی جائیں گی۔پس ہمارا یہ زمانہ بھی شیطانی ظلمتوں، اسلامی قربانیوں اور بہترین انعامات کے لحاظ سے لیلة القدر ہے۔اور اس زمانہ میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ انتہائی قربانیاں لی جائیں گی اور عظیم انعامات کا وارث کیا جائے گا۔حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں جب اللہ تعالیٰ کی وہ پیشگوئیاں اور وہ آیات بینات اور وہ نشانات ابھی ظاہر نہیں ہوئے تھے، جو بعد میں ہوئے۔اس وقت بھی آپ پر کچھ لوگ ایمان لائے۔ان لوگوں کی زندگیوں کو جب ہم دیکھتے ہیں اور اس زمانہ کے حالات پر جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ ان لوگوں نے انتہائی قربانیاں دیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نشانات ابھی پوری طرح واضح نہیں تھے۔وہ غیب پر ایمان لائے۔ان کے بعد میں آنے والوں نے تو ہزاروں نشان دیکھے۔بعض نے ان سے فائدہ اٹھایا اور بعض نے فائدہ نہیں اٹھایا۔لیکن نشان ہر ایک نے ہی دیکھے۔بہر حال ان نشانوں کو دیکھنے کے بعد جولوگ ایمان لائے، وہ انتہائی اندھیروں کے اوقات میں ایمان لانے والوں میں شمار نہیں ہو سکتے۔اور اس وجہ سے ان کی قربانیوں کی وہ شان نہیں ، جو سابقون کی قربانیوں کی ہے۔جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام 332