تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 331
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطبه جمعه فرمود و 29 دسمبر 67 محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہر دل میں گاڑ دی جائے گی وو خطبہ جمعہ فرمودہ 29 دسمبر 1967ء۔۔۔اجتماعی طور پر لیلة القدر وہ زمانہ بھی ہے، جو ایک نبی کا زمانہ ہوتا ہے، جو انتہائی فساد اور اندھیرے اور ظلمت کا زمانہ ہوتا ہے۔لیکن ظلمت کے اس زمانے میں ، اندھیرے کی ان گھڑیوں میں اللہ تعالیٰ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ میں اپنے بندوں کے لیے نور کا سامان پیدا کروں گا۔سب سے زیادہ ظلمت شیطان نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پھیلائی۔اس سے زیادہ اندھیرے دنیا کی تاریخ میں ہمیں کہیں نظر نہیں آئیں گے۔اور سب سے زیادہ روشن نور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ان اندھیروں میں سے ہی طلوع ہوا۔اور یہ رات (جس میں یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ اندھیروں کو دور کردیا جائے گا۔جومحمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے تعلق رکھتی ہے، بہت ہی اندھیری رات تھی۔ایسی اندھیری رات کہ اس سے بڑھ کر اندھیرا تصور میں بھی نہیں آسکتا ہے۔پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ روشنی کے سامان پیدا کیے گئے۔اس قدر روشنی اور نور کہ انسان کی عقل حیران رہ جاتی ہے۔قیامت تک کے لیے وہ احکام دے دیئے گئے ، وہ صراط مستقیم بتا دیا گیا، جس پر چل کر انسان اپنے رب، جو نور السموات والارض ہے، کے نور سے نور حاصل کر کے اپنے ظاہر اور باطن کو منور کر سکتا ہے۔تو یہ زمانہ بھی لیلة القدر کا زمانہ ہے۔یعنی فساد کا، یعنی شیطانی حکومت کا، یعنی اللہ تعالیٰ کے بعد کے اندھیروں کا ، وہ زمانہ ، جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ روشنی پیدا کی گئی اور ان اندھیروں کو دور کیا گیا۔اندھیروں کا یہ زمانہ وہ تھا ، جس میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والوں نے انتہائی دکھ اٹھائے۔ان لوگوں کے لئے دنیا اندھیر تھی۔دنیوی لحاظ سے روشنی کی کون سی کرن تھی ، جو وہاں تک پہنچ سکتی تھی؟ ہر طرف سے کفر نے ان کوگھیرا ہوا تھا۔ہر قسم کی قربانیاں تھی ، جو ان سے لی جا رہی تھی۔مردوں سے بھی اور عورتوں سے بھی۔وہ کون سی بے عزتی تھی ، جوان مسلمان عورتوں کو نہ دیکھنی پڑی ہو؟ ہر قسم کے اندھیروں کی دیوار میں شیطان ان کے گرد کھڑی کر رہا تھا۔اور اللہ تعالیٰ ان 331