تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 316
خطبہ جمعہ فرمودہ 27اکتوبر1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم بیرونی ممالک کے اعداد و شمار صحیح تصویر پیش نہیں کرتے۔کیونکہ اس میں وہ امداد بھی شامل ہے، جوحکومتوں کی طرف سے ہمارے سکولوں کو ملتی ہے اور وہ کافی بڑی رقمیں ہیں۔مغربی افریقہ میں ہمارے بہت سے سکول ہیں، جو امداد لے رہے ہیں۔یہاں بھی ہمارے کالج اور سکول کو ایڈ ملتی ہے اور ہمارے بجٹ میں شامل ہوتی ہے۔وہاں چونکہ کثرت سے سکول ہیں، حکومت کی طرف سے جو امدادملتی ہے، وہ ہمارے بجٹ میں شامل ہو جاتی ہے۔کل چونکہ دفاتر میں چھٹی تھی تفصیل میں حاصل نہیں کر سکا۔اس چیز کو بے شک مد نظر رکھیں۔لیکن اس کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ بیرون پاکستان کی آمد ہمارے دلوں میں تشویش پیدا کرنے والی ہے۔اس لئے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارا قدم اس تیزی سے آگے نہیں بڑھا، جس تیزی سے ہمارا قدم آگے بڑھنا چاہیے تھا۔اور اس کے نتیجہ میں ہم اللہ تعالیٰ کے بہت سے ان انعامات سے محروم ہو گئے ، جو اللہ تعالیٰ ہمیں دینا چاہتا تھا۔بیرونی ممالک کا نقشہ یہ ہے، 1953ء میں تحریک جدید کی آمد 4,20,000 تھی۔اس میں سکولوں کو جو امدادملی شامل ہے۔1960ء میں بیرونی ممالک کی آمد 13,63,000 ہے۔یعنی چار سال میں 4,20,000 سے بڑھ کر 13,63,000 روپیہ ہوگئی۔اور 68-1967ء میں، جو سال رواں ہے، اس میں بیرونی ممالک کی اصل آمد دفتر بند ہونے کی وجہ سے نہیں مل سکی، لیکن جو بجٹ ہے، وہ تمہیں لاکھ، بہتر ہزار روپے کا، یعنی 13,63,000 ، 1960ء کے بجٹ اور آمد کے مقابلہ میں 1967ء میں بیرونی ممالک کا بجٹ 30,00,000 ہو گیا ہے۔اور 1953ء میں جو بجٹ صرف 4,20,000 کا تھا ، 1967 ء میں وہ بجٹ 30 لاکھ روپیہ کا ہو گیا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ان چودہ سالوں میں قریبا ساڑھے سات گنا یعنی قریباً ساڑھے سات سو فیصد ترقی انہوں نے کی ہے۔اس کے مقابلہ میں اگر سال رواں کا بجٹ ہم سامنے رکھیں تو ہماری ترقی صرف %40 ہے۔ہماری یہ ترقی دگنی بھی نہیں ہے۔اس کے مقابلہ میں بیرونی ممالک کے بجٹ سے جو اندازہ ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ بیرونی ممالک میں اللہ تعالیٰ نے کچھ ایسا فضل کیا ہے کہ ان قربانیوں کا مجموعی طور پر جو نقشہ ہمارے سامنے آتا ہے، وہ 1953ء اور 1967ء کے درمیانی چودہ سال میں ساڑھے سات گنا زیادہ ساڑھے سات سو فیصدی بڑھ گیا ہے۔تو جس رفتار سے وہ آگے نکل رہے ہیں اور جس است رفتار سے ہم آگے بڑھ رہے ہیں، جب ان کا ہم مقابلہ کرتے ہیں تو میرے دل میں تشویش پیدا ہوتی ہے۔اور میں یقین رکھتا ہوں کہ ہر مخلص دل میں تشویش پیدا ہوگی۔ہماری مالی قربانیاں اپنی جگہ پر کھڑی ہیں۔جو قربانیاں ہم اس وقت تک دے چکے ہیں، اگر اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ دنیا میں ایک تغیر اور ایک تبدیلی پیدا کرے کہ وہ ہمیں کہنے لگیں کہ آؤ ہمیں اسلام سکھاؤ اور ہم کہیں کہ ہمارے پاس تو آدمی نہیں ، ہمارے 316