تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 315
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرمودہ 27 اکتوبر 1967ء 1967ء کے جو اعداد و شمار میں نے بتائے ہیں ، وہ وعدوں کے نہیں بلکہ اصل آمد کے ہیں۔یعنی جو آمد اس وقت تک ہو چکی ہے۔اور ابھی اس سال کی وصولی کا بہت سا حصہ باقی ہے۔لیکن اس میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ترقی ہے۔جو اصل آمد اس وقت تک ہوچکی ہے، ( مارچ، اپریل تک آمد رہتی ہے۔اس کے لحاظ سے بھی 1967ء میں ہماری آمد، ہر سہ دفاتر کی 3,56,000 کے مقابلہ پر 3,70,000 ہو چکی ہے۔اور ابھی قریباً ایک لاکھ ، ساٹھ یا ستر ہزار کے وعدے ایسے ہیں، جو قابل وصول ہیں۔اگر ان میں سے ایک بڑی رقم وصول ہو جائے ، ہوئی تو سو فیصدی چاہیے، لیکن بعض دفعہ کوئی صاحب فوت ہو جاتے ہیں یا نوکری ان کی چھوٹ جاتی ہے یا کوئی ایسی جائز روک پیدا ہو جاتی ہے اور وہ چندہ ادا نہیں کر سکتے تو اگر اس کو مدنظر بھی رکھا جائے ، تب بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ رقم جو ہے، وہ اصل آمد 3,55,000 سے بڑھ کے، جو 1960ء کی آمد ہے، قریباً 5,00,00 روپے تک چلی جائے گی یا اس سے بھی بڑھ جائے گی۔(5,35,000 روپے کے وعدے ہیں غالباً ) جس کا یہ مطلب ہوگا کہ ڈیڑھ لاکھ روپے زیادتی ہوئی۔لیکن جو عملا ہمیں ضرورتیں پیش آئی ہیں، وہ ڈیڑھ لاکھ روپے سے زیادہ کی تھیں۔اور اگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ایسے سامان پیدا نہ کرتا کہ آپ کی غفلت اور ستی پر پردہ ڈال دے تو ہمارے سیارے کام رک جاتے۔اس لئے کہ اس عرصہ میں بیرون پاکستان میں اتنی مضبوط جماعتیں پیدا ہو گئیں کہ ان میں بہت سی اپنے پاؤں پر کھڑی ہوگئیں۔اور بہت سی ایسی تھیں، جنہوں نے بیرون پاکستان مشنز کو امداد دینی شروع کر دی۔اور اس کے نتیجہ میں ہمارے کام میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے کوئی کمی واقع نہیں ہوئی بلکہ ترقی کی طرف ہمارا قدم بڑھتا چلا گیا۔لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ آپ خوش ہو جائیں کہ ہمیں اب زیادہ قربانیاں دینے کی ضرورت نہیں۔اس کے معنی تو یہ ہیں کہ جیسے فکر پیدا ہوئی ہے کہ ہم نے غفلت اور ستی دکھائی اور وہ انعامات ، جو ہمیں ملنے چاہیے تھے، وہ ہمیں نہیں ملے اور دوسروں نے ہمارے ہاتھ سے چھین لیے۔اگر ہمیں وہ ہل جاتے اور بیرون پاکستان کے بھائی بھی اللہ تعالیٰ کے ان انعامات میں شریک ہوتے تو ہمارے لئے بڑی خوشی کی بات تھی۔لیکن ہوا یہ کہ ان کوتو اللہ تعالیٰ نے بڑے انعامات سے نوازا لیکن اس کے مقابلہ میں جو انعامات ہمیں ملنے چاہیے تھے، ہمیں نہیں ملے۔315