تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 16
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 07 جنوری 1966ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم بڑھانے کے قابل ہو جاتے ہیں۔اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے، حضرت مصلح موعودؓ نے 1952ء میں بھی اور اس کے علاوہ اور مواقع پر بھی جماعت کو بار بار نصیحت فرمائی ہے کہ وہ اپنے کاموں میں تنظیم پیدا کرے، انہیں منظم شکل دے اور انہیں کسی منصوبہ بندی اور پلینگ (planning) کے مطابق کرے۔ورنہ ہماری رفتار ترقی کبھی تیز نہیں ہو سکتی۔سوحضور کی اس تاکیدی نصیحت کے ساتھ آج میں اپنے بھائیوں کو سال نو کی مبارک باد دیتا ہوں۔اور ان کی توجہ اس طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ برکت کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ خدا تعالیٰ کے فضل ہم پر پہلے سے زیادہ نازل ہوں اور اس میدان مجاہدہ میں اور میدان جہاد میں جس میں ہم قدم رکھ چکے ہیں، ہمارے قدم آگے ہی بڑھتے چلے جائیں، وہ پیچھے کی طرف کبھی نہ اٹھیں۔اور اس کے لئے ضروری ہے کہ ہماری کوششوں میں تنظیم پائی جائے اور ہم ایک منصوبہ بندی اور پلین (plan) کے ماتحت اپنی جد و جہد کو جاری رکھنے والے ہوں۔اس اصول کے مطابق میں جماعت کے تمام اداروں سے یہ کہتا ہوں کہ آئندہ چند ہفتوں کے اندر اندر وہ سال نو میں کام کرنے کا ایک منصوبہ تیار کریں اور اسے میرے سامنے رکھیں۔جسے میں سال کے دوران حسب ضرورت جماعت کے دوستوں کے سامنے پیش کرتا رہوں گا اور اسے پورا کرنے کی طرف ان کی توجہ مبذول کراتا رہوں گا۔لیکن چونکہ حضرت مصلح موعودؓ کے ارشادات پر ایک لمبا عرصہ گزر چکا ہے اور حضور کے وصال سے پہلے ایک لمبا عرصہ جماعت پر ایسا بھی گزرا ہے، جس میں حضور اپنی بیماری کی وجہ سے ان تفاصیل میں جماعت کی پوری نگرانی نہیں کر سکے۔اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ میرا فرض ہے کہ میں مختلف اداروں کو ان کے بعض کاموں کی طرف مختصراً توجہ دلا دوں۔تفاصیل وہ اپنے طور پر طے کر لیں۔تحریک جدید کو میں اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ دس پندرہ روز سے یا یوں سمجھ لو کہ جلسہ سالانہ کے آخری دن سے میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا ہے اور میں نے اس پر کافی غور کیا ہے اور معلومات بھی حاصل کی ہیں اور میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اس وقت افریقہ میں دو ملک ایسے پائے جاتے ہیں کہ جن کے رہنے والے لوگوں کے دلوں میں خدا تعالیٰ کے فرشتوں نے اسلام اور احمدیت کی قبولیت کے لئے ایک جذبہ اور تڑپ پیدا کر دی ہے۔اور ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کی روحانی پیاس کو بجھانے کے لئے ان میں زیادہ سے زیادہ مبلغ، ڈاکٹر اور استاد بھجوائیں اور اپنی کتب اور رسالے ان تک پہنچا ئیں۔مجھے امید ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑی جلدی ان ملکوں میں اسلام اور احمدیت مضبوطی سے قائم ہو جائیں 16