تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 302
خطبہ جمعہ فرمودہ 20 اکتوبر 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم باہر نہیں ہوں گے۔اور زمین پر اس قدرسخت تباہی آئے گی کہ اس روز سے کہ انسان پیدا ہوا ، ایسی تباہی کبھی نہیں آئی ہوگی۔اور اکثر مقامات زیروز بر ہو جائیں گے کہ گویا ان میں کبھی آبادی نہ تھی۔اور اس کے ساتھ اور بھی آفات زمین و آسمان میں ہولناک صورت میں پیدا ہوں گی۔یہاں تک کہ ہر ایک عقلمند کی نظر میں وہ باتیں غیر معمولی ہو جائیں گی اور ہیت اور فلسفہ کی کتابوں کے کسی صفحہ میں ان کا پتہ نہیں ملے گا۔تب انسانوں میں اضطراب پیدا ہوگا کہ یہ کیا ہونے والا ہے؟ اور تھیرے نجات پائیں گے اور بتھیرے ہلاک ہو جائیں گے۔وہ دن نزدیک ہیں بلکہ میں دیکھتا ہوں کہ دروازے پر ہیں کہ دنیا ایک قیامت کا نظارہ دیکھے گی۔اور نہ صرف زلزلے بلکہ اور بھی ڈرانے والی آفتیں ظاہر ہوں گی ، کچھ آسمان سے اور کچھ زمین سے۔یہ اس لئے کہ نوع انسان نے اپنے خدا کی پرستش چھوڑ دی ہے اور تمام دل اور تمام ہمت اور تمام خیالات سے دنیا پر ہی گر گئے ہیں۔اگر میں نہ آیا ہوتا تو ان بلاؤں میں کچھ تاخیر ہو جاتی۔پر میرے آنے کے ساتھ خدا کے غضب کے وہ خفی ارادے، جو ایک بڑی مدت سے مخفی تھے، ظاہر ہو گئے۔جیسا کہ خدا نے فرمایا:۔وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُوْلًا اور تو بہ کرنے والے امان پائیں گے۔اور وہ جو بلا سے پہلے ڈرتے ہیں، ان پر رحم کیا جائے گا۔کیا تم خیال کرتے ہو کہ تم ان زلزلوں سے امن میں رہو گے یا تم اپنی تدبیروں سے اپنے تئیں بچا سکتے ہو؟ ہر گز نہیں۔انسانی کاموں کا اس دن خاتمہ ہو گا۔یہ مت خیال کرو کہ امریکہ وغیرہ میں سخت زلزلے آئے اور تمہارا ملک ان سے محفوظ ہے۔میں تو دیکھتا ہوں کہ شاید ان سے زیادہ مصیبت کا منہ دیکھو گے۔اے یورپ ! تو بھی امن میں نہیں۔اور اے ایشیا ! تو بھی محفوظ نہیں۔اور اے جزائر کے رہنے والو! کوئی مصنوعی خدا تمہاری مدد نہیں کرے گا۔میں شہروں کو گرتے دیکھتا ہوں اور آبادیوں کو ویران پاتا ہوں۔وہ واحد یگانہ ایک مدت تک خاموش رہا اور اس کی آنکھوں کے سامنے مکر وہ کام کیے گئے اور وہ چپ رہا۔مگر اب وہ ہیبت کے ساتھ اپنا چہرہ دکھلائے گا۔جس کے کان سننے کے ہوں، سنے کہ وہ وقت دور نہیں۔میں نے کوشش کی کہ خدا 302