تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 289 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 289

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم خلاصہ تقریر فرموده 12 اکتوبر 1967ء احمدی مستورات نے کوپن ہیگن کی مسجد کے علاوہ بھی اپنے چندوں سے یورپ میں دیگر مساجد بنوائی ہیں۔لیکن جو نظارہ مسجد نصرت جہاں کے افتتاح کے وقت دیکھنے میں آیا، اس کا الفاظ میں بیان کرنا محال ہے۔یوں معلوم ہوتا تھا کہ وہاں سبھی لوگ مسحور ہو گئے ہیں۔چنانچہ ڈنمارک کے چرچ بلیٹن نے ایک نوٹ لکھا کہ ” ڈنمارک کے لوگوں کے عقائد اسلام سے اس طرح ملتے ہیں ، جس طرح پانی کے دو قطرے“۔اس بلیٹن کے اس نوٹ کے انداز تحریر سے عیاں ہوتا ہے کہ عیسائی دنیا میں اس بات سے بہت گھبراہٹ پیدا ہو گئی ہے کہ ایسے لوگ ، جو بظاہر تو عیسائی ہیں مگر عقیدہ مسلمان ہیں، اب عملاً اسلام میں داخل نہ ہو جائیں اور عیسائیت کو شکست نہ ہو۔جو کچھ میں نے وہاں محسوس کیا، اسی کی بناء پر میں نے آپ لوگوں کو مبارک باد دی تھی کہ احمدی مستورات کی کوشش نے مقبولیت کا شرف حاصل کر لیا ہے۔اس کے بعد آپ کی ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے۔یادر ہے کہ محض کوشش بھی بریکار ہے، جب تک دل کے تقویٰ کی حالت قابل قبول نہ ہو۔اگر دل کے کسی گوشہ میں اپنی ذہانت، خوبصورتی ، خاندانی وجاہت یا دولت و ثروت کے غرور کا شائبہ ہو تو خدا تعالیٰ اس دل کو چھوڑ دیتا ہے۔لیکن اپنے دل کو خدا تعالیٰ کے لئے مخصوص کر دینے والے کے دل میں جلوہ گر ہوتا ہے۔کو پین بیگن کی مقبولیت جوا ہم ذمہ داریاں آپ پر ڈالتی ہے، میں اس کی طرف خاص طور پر آپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔اگر آپ اپنی ذمہ داری کو اس لئے اہم نہ سمجھیں کہ ابھی آپ تعلیمی دور میں سے گزر رہی ہیں تو یہ محض غلط فہمی ہے۔کیونکہ اسلام تو ایک دن کے بچے کو مجاہدہ کا درس دیتا ہے۔سویڈن کی ایک طالبہ کی مثال آپ کے لئے قابل رشک ہوگی۔میرے ڈنمارک کے قیام کے دوران ایک خاتون طالب علم سویڈن سے ڈنمارک اسلام کے متعلق گفتگو کرنے آئی۔اس نے ہمارے مبلغ سے تبادلۂ خیالات کیا اور مجھ سے بھی ملنے کی اجازت طلب کی۔میں نے اسے گفتگو کا موقع دیا تو اس لڑکی نے سوال کیا کہ اسلام اور احمدیت ایک ہی ہیں یا ان میں کوئی فرق ہے؟ میں نے جواب دیا کہ ”میرے نزدیک تو یہ دونوں ایک ہی ہیں۔یہ سن کر اس نے کہا کہ ”پھر میری بیعت اسی وقت لے لیں۔ایک طالبہ کا دین کے معاملہ میں یہ ذوق و شوق خدائی تصرف تھا۔اور فرشتے نے اسے کہا کہ اٹھ اور ڈنمارک میں جا کر اسلام قبول کر۔اس واقعہ میں آپ طالبات کے لئے بھی ایک سبق ہے۔لہذا آپ سب اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں۔مسلمان بچیاں خواہ وہ کالج میں ہوں یا اسکول میں، ایک چیز مشترکہ طور پر ان کے مد نظر رہنی چاہئے کہ ہم نے ایک مسلمان خاتون کی زندگی گزارنی ہے۔اگر دنیا دھتکار بھی دے تو 289