تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 274
خطبہ جمعہ فرمود 15 ستمبر 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم تھے۔) کہ میں ان سے ناراض ہوں۔اور ان کو یہ پتہ نہیں تھا، یہ علم نہیں تھا کہ میرے دل کی سختی تو 08 نومبر کو اللہ تعالیٰ نے صاف کر دی تھی۔اب ان کو پتہ چلا تو وہ ان کے لئے حیرت کا باعث بھی تھا اور خوشی کا باعث بھی۔جو کبھی مسجد میں نہیں آتے تھے، امام رفیق سے لڑے ہوئے تھے، میرے ساتھ گلہ وشکوہ ، رات کے دو، دو بجے تک مسجد میں بیٹھے رہتے تھے۔ایک شخص نے خوب لکھا ہے، اپنے متعلق ( میں اس کا نام بیان کرنا نہیں چاہتا۔) کہ لوگ کہتے ہیں کہ اس میں بھی ایک انقلاب عظیم پیدا ہو گیا ہے۔وہ چھ مہینہ سے خود گیا نہیں تھا، ان کے ساتھ بھی تھا، ان کو پتہ بھی تھا، رات کو ان کے ساتھ بیٹھتا بھی تھا، بچوں کو ساتھ لے کے آتا تھا۔تو تربیت کے میدان میں بھی اللہ تعالیٰ نے انتہائی احسان کیا ہے۔اب اس احسان عظیم (اگر مفرد کا لفظ ہی بولا جائے ) یا کئی ایک جن میں سے بعض سلسلوں کا نام میں نے لیا ہے اور چند مثالیں دی ہیں۔بے شمار قسم کے بے شمار گنتی میں احسان اللہ تعالیٰ نے ہم پر کئے ہیں اور کیا کرتا ہے۔ان دنوں میں تو بہت زیادہ کئے ہیں۔ہم پر اس کے نتیجہ میں بہت سے فرائض عائد ہوتے ہیں۔پہلا فرض تو یہ ہے کہ ہم اپنے اللہ کے حقیقی معنی میں شکر گزار بندے بنیں۔دوسرا فرض یہ ہے کہ ہم اپنے اللہ پر سچے دل سے تو کل رکھنے والے ہوں اور سوائے خدا کے کسی اور کی طرف ہماری نگاہ نہ اٹھے۔چند مثالیں میں نے دی ہیں۔سوائے اللہ کے وہاں کوئی مدد نہیں کر سکتا تھا۔اور اللہ تعالیٰ نے ہماری مدد کی۔تو جس نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ میں بھی تمہارے لئے کافی ہوں ، کسی اور طرف جانے کی ضرورت نہیں، اب سارا کچھ دیکھنے کے بعد ہم کس طرف جائیں گے۔ہماری بڑی بدقسمتی ہوگی ، اگر ہم اللہ کو چھوڑ کے یا اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کر کے اس پر یا ان پر تو کل شروع کر دیں۔تو سوائے خدا کے کسی اور کے لئے حمد کے جذبات ہمارے دلوں میں نہیں ہیں اور نہ ہونے چاہئیں۔اور سوائے خدا کے کسی ہستی پر کسی وجود پر تو کل نہیں کر سکتے۔نہ کسی شے پر ہم تو کل کرتے ہیں۔دنیا جانتی ہے ( اور ہم سے بھی یہ حقیقت چھپی ہوئی نہیں۔کہ ہم ایک کمزور جماعت ہیں، ہم ایک غریب جماعت ہیں، ہم ایک کم علم جماعت ہیں۔ہم ایک ایسی جماعت ہیں، جس کے پاس کوئی سیاسی اقتدار نہیں، نہ اس میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ہم وہ جماعت ہیں، جس کے پاس بادشاہتیں نہیں اور نہ یہ جماعت بادشاہتوں کو حاصل کر کے کوئی خوشی حاصل کر سکتی ہے۔کیونکہ وہ ہمیں مل گیا ہے، اسی کے فضل سے۔اور جب وہ (اللہ ) مل جائے تو کسی اور چیز کی ضرورت نہیں رہتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ فارسی کے شعر میں فرمایا 274