تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 273
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم - خطبہ جمعہ فرمودہ 15 ستمبر 1967ء تو یہ محبت میں نہیں پیدا کر سکتا تھا، نہ آپ پیدا کر سکتے ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کے تصرف سے پیدا ہوتی ہے، یہ اس کا بڑا عظیم احسان ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کو اپنے فضلوں سے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت خلیفة المسیح الاول (جن کو معترضین نے بڑے دکھ پہنچائے تھے۔) اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی دعاؤں کے نتیجہ میں اتحاد کا ایک ایسا مظاہرہ کرنے کی توفیق دی ہے، جو دشمن کو حیرت میں ڈالنے والا اور اس کے حسد کو اور شدید کرنے والا ہے۔وہ پریشان ہو گئے کہ یہ کیا ہو گیا ؟ ہم تو سمجھتے تھے کہ کچھ نہ کچھ فتنہ ضرور پیدا ہو گا۔لیکن صفر۔سوائے نفاق کے فتنہ کے جو ہمارے ساتھ ہمیشہ لگار ہے گا۔جس چیز نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اسلام کو نہیں چھوڑا، وہ آج ہمیں کیسے چھوڑ دے گی ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کے تو کوئی شخص قوت قدسی کا مالک اور حامل نہیں ہو سکتا۔آپ کے ساتھ بھی منافق لگے ہوئے تھے۔ہمارے ساتھ بھی لگے ہوئے ہیں۔لیکن اس استثناء کے علاوہ ساری جماعت متحد ہو گئی ہے۔ایک معجزہ ہے، جو ہماری تاریخ میں لکھا جائے گا۔اور دنیا قیامت تک اس پر رشک کرے گی۔یہی میں نے بتایا تھا۔ان دنوں ہزار ہا کی تعداد میں خطوط آتے تھے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ خطوط گویا ایک کلاس میں ڈیکٹیٹ (Dictate) کرائے گئے ہیں۔تین جذبات ہر خط میں پائے جاتے تھے۔انتہائی صدمہ نمبر ایک۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی وفات پر گویا ایک قیامت آگئی۔انتہائی فکر نمبر دو کہ معلوم نہیں ، جماعت کیا کرے گی، کوئی غلطی نہ کر بیٹھے۔انتہائی شکر کے جذ بات اللہ تعالیٰ کے لئے نمبر تین کہ جماعت ایک ہاتھ پر پھر متحد ہو گئی۔یہ تین جذبات ہر ایک خط میں پائے جاتے تھے۔خواہ وہ نجی سے لکھا ہوا ہو ، جنوبی امریکہ سے آنے والا ہو۔کسی کی زبان انگریزی، کسی کی انڈو نیشین، کسی کی جرمن اور کسی کی سوئیس (Swiss) اور کسی کی سواحیلی۔بیسیوں زبانوں میں وہ خط تھے اور تین باتیں ہر خط میں پائی جاتی تھیں۔جس سے یہ نتیجہ نکلا کہ وہ جو ساری دنیا کا استاد ہے، اس نے سب کو ڈیکٹیٹ (Dictate) کرایا تھا۔اللہ! تو یہ مزہ بھی ہم نے دیکھا۔اور وہاں بھی نئے سرے سے ان نئے نئے لوگوں میں گئے۔اور ان جماعتوں سے میرے پاس خط آتے ہیں، پیار کے شکریہ کے، کہ آپ نے بڑا احسان کیا کہ یہاں آگئے ہیں۔جماعت کے اندر ایک بیداری اور ایک روح پیدا ہوگئی ہے۔جو ذاتی رنجشوں کی بناء پر پیچھے ہٹے ہوئے تھے یعنی یوں مخلص تھے، سارا سب کچھ تھا، پیچھے ہٹے ہوئے تھے۔بعض کے دلوں میں یہ تھا ( اور ایک، دو آدمی ہی ایسے تھے، جو سمجھتے 273