تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 272 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 272

خطبہ جمعہ فرمود 150 ستمبر 1967ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم میں ہے، وہ زبان پر نہیں آسکتا اور بڑی مشکل سے اپنا رونا روکا۔پھر وہ کھڑے ہوئے ، میں نے انہیں گلے لگالیا۔اس کے بعد وہ چلے گئے۔یہ ان کی حالت تھی۔تو ان کے بعض ایسے روحانی اور اخلاقی اور قوت کے ساتھ تعلق رکھنے والے حسن تھے، جو دنیا کو نظر نہیں آئے تھے۔میرے اس سفر سے ان کی وہ چیزیں ابھر آئیں۔عجیب قوم پیدا ہوگئی ہے۔آپ کے لئے قابل رشک ہے۔یہاں بھی جو قابل رشک ہیں ہمارے لئے ، ہمارے بزرگ، ان کے پہلو بہ پہلووہ کھڑے ہوئے ہیں۔ہر قسم کی قربانی کرتے ہیں، ہر قسم کی قربانی کے لئے تیار ہیں۔پھر انگلستان میں کئی ہزار ہمارا احمدی ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی بھاری اکثریت ایسی ہے، جواردو بولنے والی ہے۔میرا یہ مضمون تو انگریزی میں تھا ریسپشن ( Reception) پر۔لیکن جلسہ سالانہ میں، میں ان سے اردو میں بات کرنا چاہتا تھا کیونکہ ان میں سے عام طبقہ مزدور پیشہ ہے۔تو علمی زبان میں ان کے لئے سمجھنا مشکل ہے۔ان میں عورتیں بھی تھیں۔بہر حال میرا یہ فیصلہ تھا، میں اردو میں بات کروں گا۔اور 08 نومبر 65ء کے واقعات سے شروع کروں گا۔چنانچہ میں بھی جذباتی ہوا ہوا تھا ، وہ بھی جذباتی ہوئے ہوئے تھے۔ان کو سارے حالات بتائے گئے۔ایک نوجوان ایسا تھا، جس نے ابھی تک بیعت نہ کی تھی۔اور پتہ نہیں کیوں ؟ واللہ اعلم۔جب جلسے کے اوپر وہاں اجتماعی بیعت ہوئی تو اس نے بیعت کر لی۔اگلے دن وہ مجھے ملنے آیا کسی نے کہہ دیا کہ اس نے کل پہلی دفعہ بیعت کی ہے۔اس نے رونا شروع کر دیا۔اس کا رونا بند ہی نہ ہوا۔میں نے اسے گلے سے لگایا، کئی منٹ تک اس کو تھپکی دیتا رہا۔تب اس نے تھوڑ اسا اپنے نفس پر قابو پایا تو اندر کوئی چیز چھپی ہوئی تھی ، جس کو کسی شیطانی و ہم نے دبایا ہوا تھا۔میرے جانے سے وہ شیطان بھاگ گیا اور اندرونی حسن جو تھا، وہ ظاہر ہو گیا۔اتنا پیارا نہوں نے مجھے دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجھ سے بھی لیا ہے، میں تو سمجھتا ہوں کہ میری یہ ڈیوٹی ہے۔اور آپ لوگوں کا احسان ہے۔میں اپنے فرض کو پورا کرتا ہوں۔ایک مجھ پر احسان کرتے چلے جاتے ہیں۔پہلے بھی میں نے کئی دفعہ بتایا ہے، وہ تصویر میں مرتے دم تک نہیں بھول سکتا۔ایک چھوٹا بچہ تھا، جو میرے پہلو میں کھڑا تھا۔جب ہم آ رہے تھے تو دعا ہوئی ، بہت عاجزی اور تضرع سے ہوئی۔اس کے بعد میں چند منٹ تک سر نیچا کر کے کھڑا رہا۔اپنی طبیعت پر قابو پانا چاہتا تھا۔اس کے بعد سر اٹھایا ، سلام کیا۔بعض جو لوگ قریب تھے ، وہ مجھ سے تحفہ چاہتے تھے، انہیں تھے بھی دیئے۔جو میری جیب میں تھا، نکال کے دیتا چلا گیا۔کئی منٹ کے بعد اچانک میری نظر پڑی تو ایک بچہ معصوم بارہ، تیرہ سال کار رورہا تھا اور اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپک رہے تھے۔272