تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 259
تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرمودہ 15 ستمبر 1967ء وہ یہ جواب سن کر کھڑے کھڑے گویا اچھلنے لگ گیا۔معلوم ہوا کہ اس پر اس جواب کا اتنا اثر ہوا ہے کہ وہ برداشت نہیں کر سکا اور کہنے لگا، مجھے حوالہ دکھا ئیں۔یہ ان لوگوں کی عادت ہے کہ اگر کسی اور کی طرف کوئی بات منسوب کی جائے تو اس کا حوالہ دکھانے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔مجھے قطعا علم نہ تھا کہ اس قسم کا کوئی سوال ہوگا اور میرے منہ سے یہ جواب دلوا دیا جائے گا۔لیکن اللہ تعالیٰ کو یہ پتہ تھا۔میں یہاں سے چند ایک حوالے، جو میرے یہاں کام نہیں آئے تھے ، اپنے ساتھ لے گیا تھا۔میں نے کہا تھا ، رکھ لو، کبھی کام آجاتے ہیں۔ان میں یہ حوالہ اور اس کا انگریزی ترجمہ بھی تھا۔یوں ہو گیا تھا، جانے سے پہلے۔لیکن میرے ذہن میں پختہ نہیں تھا کہ وہ ہے بھی یا نہیں ؟ میں نے اپنے پرائیویٹ سیکرٹری کو کہا، مجھے یاد پڑتا ہے کہ ان حوالوں میں یہ حوالہ بھی ہے۔جا کے سارے حوالے لے آئیں۔جب وہ لائے تو ان میں یہ حوالہ بھی موجود تھا۔میں نے اسے دکھایا۔اس نے کہا کہ میں اسے نقل کرنا چاہتا ہوں۔میں نے کہا، ضرور نقل کرو۔اس نے وہ نقل کیا اور اگلے دن اس اخبار میں جو ایک لفظ نہیں لکھا کرتا تھا، پورا ایک کالم بلکہ اس سے بھی کچھ سطریں زیادہ اس کا مضمون شائع ہوا۔جس میں ہماری باتیں ، جو اس سے ہوئیں ، وہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ حوالہ درج تھا۔دوسرے جو نوٹ شائع ہوئے ، وہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔لیکن جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کوئی نوٹ وہ شائع کر دیں تو میری طبیعت میں اس سے بہت بڑی خوشی اور بشاشت پیدا ہوتی تھی۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک مرسل کو دنیا کی اصلاح کے لئے بھیجا ہے، جو اثر آپ کے الفاظ میں ہے ، وہ کسی اور کے الفاظ میں نہیں ہوسکتا۔تو جب اس نے وہ حوالہ نقل کر دیا، میں بہت خوش ہوا۔اور یہاں بھی ہمارے بعض واقف اور دوسرے لوگ بھی ملے ہیں، جب ان کو پتہ چلتا ہے کہ اس اخبار نے اتنا بڑا نوٹ دیا ہے تو وہ بڑے حیران ہوتے ہیں۔زیورچ میں سارے اخباروں نے ہمارے متعلق نوٹ دیئے۔کوئی ایک اخبار نہیں تھا ، جو پیچھے رہ گیا ہو۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ دوڑ لگی ہوئی ہے۔ہر ایک چاہتا تھا کہ میں دوسروں سے آگے نکلوں اور باتیں وہ بیان کروں، جو وہاں کے مذہب کے، وہاں کے معاشرے کے اور وہاں کے اخلاق کے خلاف ہوں۔ہر وہ آدمی ، جس کے ہاتھ میں کوئی اخبار جاتا ہے، اسے اللہ تعالیٰ کا یہ پیغام پہنچ گیا کہ میری طرف رجوع کرو اور میرے محبوب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں آؤ ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے۔میں نے زیورچ سے شروع کیا اور کوئی گھر ایسا نہیں، جس میں کوئی اخبار پہنچتا ہو اور پھر اسے یہ پیغام نہ پہنچا ہو۔کیونکہ زیورچ کا کوئی اخبار ایسا نہیں، جس نے ہمارا یہ پیغام شائع نہ کیا ہو۔259