تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 258 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 258

خطبہ جمعہ فرموده 15 ستمبر 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم پریس: وہاں بڑا آزاد پریس ہے۔وہ بادشاہوں کی بھی پرواہ نہیں کرتا۔لکھ دیتے ہیں، جو دل میں آئے۔تعصب کا یہ عالم کہ ہمارے مبلغ ڈر رہے ہیں کہ پتہ نہیں کیا ہوگا ؟ پریس کانفرنس ہی نہ بلائی جائے۔وہ آتے ہیں، سوال کرتے ہیں، ایک آدھ دفعہ تقریبا ہر جگہ سیاست کے متعلق وہ ضرور سوال کرتے۔میں ان کو آرام سے کہہ دیتا تھا کہ میں تو سیاسی آدمی نہیں ہوں، میں مذہبی آدمی ہوں، مجھ سے مذہب کے متعلق جو چاہو ، سوال کرو۔پھر ہماری مذہبی گفتگو ہوتی رہتی تھی۔جو باتیں میں کہہ رہا تھا، وہ ان کے عقیدہ کے خلاف اور جو ان کی کمزور اور ظلمت کی زندگی گزارنے والی عقلیں ہیں، وہ ان عقلوں کے خلاف۔اور جو بات میں کہتا تھا با وجود اس کے کہ ان کے عقائد یا ان کی سمجھ کے خلاف ہوتی تھی ، وہ اخبار میں شائع کر دیتے ایسا تصرف الہی تھا۔سوئٹزرلینڈ میں ہمارے باجوہ صاحب (مشتاق احمد ) نے بتایا کہ ایک اخبار ہے، وہ تعلیم یافتہ لوگوں کا اخبار سمجھا جاتا ہے، اشاعت کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر ہے۔لیکن تمام تعلیم یافتہ لوگ اس کو لیتے ہیں، مزدور اس کو نہیں پڑھتے۔بڑے پایہ کا اخبار ہے اور بڑا متعصب۔ہمیشہ اسلام کے خلاف لکھتا ہے۔جب میں تردیدی خط لکھوں تو انکار کر دیتا ہے ، ایک لفظ نہیں لکھتا۔نہ تردید میں اور نہ اسلام کے حق میں۔تو پتہ نہیں، اس کا نمائندہ آئے یا نہ آئے؟ اگر آئے تو پتہ نہیں، وہ کچھ لکھتا بھی ہے یا نہیں ؟ پھر اس کا جو نمائندہ آیا ، اللہ تعالی نے اس کے دل پر تصرف کیا اور اس نے خاص دلچسپی لی۔پہلے سے ہی اس کے دل میں ڈالا گیا تھا کہ تم نے اس میں دلچسپی لینی ہے۔چنانچہ وہ اکیلا نہیں آیا بلکہ اپنی سٹینو کو ساتھ لے کے آیا۔یوں تو مجھے پتہ نہیں چلا لیکن بعد میں جو تصویر میں آئی ہیں، ان سے پتہ چلا کہ وہ سٹینو، جو تصویر میں آگئی ہے، وہ ساتھ ساتھ شارٹ ہینڈ میں بڑی تیزی سے لکھتی رہی ہے۔گفتگو کے وقت وہ نمائندہ ہی میرے سامنے تھا اور میری ساری توجہ اس کی طرف تھی اور اس کے سوالوں کی طرف تھی ، جو وہ پہلے تیار کر کے لایا تھا۔چنانچہ جب کا نفرنس ختم ہو گئی تو بعد میں وہ میرے پاس آ گیا اور باتیں کرتا رہا۔اس وقت بھی وہ سٹینو اس کے ساتھ تھی اور نوٹ نے رہی تھی۔آخر میں اس نے سوال کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کا مقصد کیا تھا؟ میں نے کہا، میں اپنے الفاظ میں تمہیں نہیں بتلاتا۔خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی کے الفاظ میں تمہیں بتلاتا ہوں کہ آپ نے کیا دعویٰ کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے کیوں مبعوث کیا ہے؟ آپ فرماتے ہیں کہ اس لئے اس نے اپنے اس مسیح کو بھیجا تا وہ دلائل کے حربہ سے اس صلیب کو توڑے، جس نے حضرت عیسی علیہ السلام کے بدن کو تو ڑا تھا اور زخمی کیا تھا“۔تریاق القلوب روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۱۴۳ ۱۴۴۰) 258