تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 233
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم - خطبہ جمعہ فرموده 08 ستمبر 1967ء اس کی تیاری کے لیے تفصیلی منصوبہ تو انشاء اللہ تعالیٰ اور اس کی توفیق سے میں اپنے وقت پر بیان کروں گا ( ممکن ہے، کئی خطبات دینے پڑیں۔لیکن اصولاً میں اس وقت یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کو اپنی عادتیں بدلنی پڑیں گی۔آپ کو بہت سی بدعات، جو آہستہ آہستہ ہم میں نفوذ کر گئی ہیں، ان کو چھوڑنا پڑے گا۔آپ کو ذہنی طور پر اس بات کے لئے تیار ہونا پڑے گا کہ اگر اسلام کی ضرورت ہمیں پکارے کہ اپنا سب کچھ چھوڑ دو، ادھر آؤ اور اس ضرورت کو پورا کرو تو جس طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں اسلام کی آواز سن کر سب کچھ چھوڑ کر میدان جہاد کی راہ لی تھی ، اسی طرح ہم بھی اس آواز پر اپنا سب کچھ چھوڑ کر اسلام کی خاطر اور اسلام کی اشاعت کے لئے اور توحید کے قیام کے لئے وہاں پہنچ جائیں ، جہاں ہماری ضرورت محسوس کی جائے۔یہ ذہنیت ہمیں پیدا کرنی پڑے گی۔اور ہمیں اس وقت بڑا چوکس بھی رہنا پڑے گا۔کیونکہ جیسا کہ کہا گیا ہے ، ظلمت کے ساتھ نور کی یہ آخری جنگ ہے۔اور ظلمت خاموش نہیں رہے گی۔وہ ہم پر باہر سے بھی حملہ آور ہوگی اور اندر سے بھی ہم پر حملہ آور ہوگی۔وہ (منافقوں کے ذریعہ ) جماعت کے اتحاد کو پاش پاش کرنے کی کوشش کرے گی۔جور پورٹیں میرے تک پہنچ رہی ہیں، ان میں سے بعض اس طرف بھی اشارہ کر رہی ہیں کہ بعض لوگ یہ کہتے سنے گئے ہیں کہ اب تو کوئی چارہ نہیں رہا۔یہ کوشش کرنی چاہیئے کہ ان کا اتحاد قائم نہ رہے۔بلکہ جس طرح دوسرے لوگ منتشر ہیں اور پراگندہ ہیں، اسی طرح یہ جماعت بھی منتشر اور پراگندہ ہو جائے۔اسلام دوستی تو اس سے ظاہر ہوتی ہے، ان کی لیکن انہوں نے اپنی نہج پر سوچنا ہے اور ہم نے ان طریقوں پر کام کرنا ہے، جو اللہ تعالیٰ ہمیں بتائے۔اس وقت اللہ تعالیٰ کی توفیق سے جماعت نے اتحاد کا اتنا حسین مظاہرہ کیا ہے کہ بہر حال مخالف اس کو پسند نہیں کرتا ، نہ کر سکتا ہے۔وہ رخنہ ڈالنے کی کوشش کرے گا،اندرونی فتنوں کے ذریعہ سے۔اور جیسا کہ میں نے کہا ہے ، ظلمت جو ہے، وہ بیرونی حملوں کو بھی تیز کرے گی۔لیکن آسمان سے فرشتوں کا نزول ہو چکا ہے اور عیسائیت دنیا سے ختم ہو چکی ہے۔عیسائیت اب اس بات کے ماننے پر مجبور ہوگئی ہے کہ اگر ایک شخص کا عقیدہ یہ ہوکہ مسیح خدا نہیں تھا، تب بھی وہ عیسائی ہی رہتا ہے۔اگر اس کا عقیدہ یہ ہے کہ بائبل الہامی کتاب نہیں ، تب بھی وہ عیسائی ہی رہتا ہے۔اگر اس کا عقیدہ یہ ہو کہ حضرت مریم کنواری نہیں تھیں اور مسیح بن باپ نہیں تھے، تب بھی وہ عیسائی ہی رہتا ہے۔اگر جتنے عقائد ہیں، عیسائیت کے، کوئی شخص ایک ایک کر کے چھوڑتا چلا جائے ، تب بھی وہ عیسائی رہتا ہے۔اگر مسیح کو کوئی عیسائی ( نعوذ باللہ ) با خلاق انسان نہ سمجھے، تب بھی وہ عیسائی ہی رہتا ہے۔233