تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 221 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 221

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم تقریر فرموده 05 ستمبر 1967ء یہ تو اللہ تعالیٰ کا پہلے دن سے فیصلہ ہے کہ اسلام نشاۃ ثانیہ میں ساری دنیا پر غالب آئے گا۔وہ دلائل کے زور سے غالب آئے گا، وہ دلوں کو فتح کر کے غالب آئے گا، وہ قوموں کو اس قابل بنا کر غالب آئے گا کہ وہ اپنے اللہ کو پہنچانے لگیں۔لیکن اگر دنیا نے اسلام کی طرف توجہ نہ کی (جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تفصیل سے بیان کیا ہے ) تو ایک ایسی ہلاکت سامنے کھڑی ہے، جو انسان نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔وہ ایسی ہلاکت ہے، جو قیامت کا ایک نمونہ ہوگی۔اور جب وہ واقع ہو جائے گا تو دنیا کے علاقوں کے علاقے ایسے ہوں گے، جہاں سے زندگی ختم ہو جائے گی۔انسان بھی ختم ہو جائیں گے ، درندے بھی ختم ہو جائیں گے، پرندے بھی ختم ہو جائیں گے، ان کے علاوہ دوسرے جانور بھی ختم ہو جائیں گے۔ہر قسم کی زندگی کا خاتمہ ہو جائے گا ان علاقوں سے۔میں نے ان کو بار بار سمجھایا اور مختلف جگہوں پر مختلف رنگوں میں بتایا کہ دیکھو، حضرت مسیح موعود یہ السلام کی وفات 1908ء میں ہوئی۔اور 1908ء سے پہلے کی یہ پیشگوئیاں ہیں۔1908ء میں دنیا کا کوئی سائنس دان ( خواہ اس کا تعلق جرمنی سے تھا، انگلستان سے تھا، روس سے تھا، امریکہ سے تھایا کسی اور قوم سے تھا۔یہ نہیں کہہ سکتا تھا اور اس کے وہم میں بھی یہ بات نہیں آسکتی تھی کہ ایٹم کے اندر کوئی ایسی طاقت ہے، جس کا غلط استعمال دنیا کو تباہ کر سکتا ہے۔اور پھر اس ایٹم کی طاقت کے نتیجہ میں ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں کہ دنیا کے علاقوں کے علاقوں میں زندگی ختم ہو جاتی ہے۔یہ سوال نہیں ہوتا کہ انسان کتنی تعداد میں مرے؟ یا پرندے کتنے مرے؟ یا چرندے کتنے مرے؟ یا کیٹرے مکوڑے کتنے مرے؟ بلکہ اس علاقہ سے زندگی ختم ہو جاتی ہے۔نہ وہاں انسان باقی رہتا ہے، نہ جانور باقی رہتا ہے اور نہ کوئی کیڑا مکوڑا باقی رہتا ہے۔جس وقت یہ پیشگوئی کی گئی تھی، اس وقت یہ بات ناممکن تھی۔اس پر سائنسدان بنتے ہوں گے اور مذاق کرتے ہوں گے۔اور اپنی جہالت کے نتیجہ میں یہ کہتے ہوں گے کہ یہ بات کیسے ممکن ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے علاقوں سے زندگی ختم ہو جائے؟ لیکن خود انہوں نے بعد میں ایسی چیز ایجاد کر لی کہ اگر اس کا غلط استعمال ہو جائے تو وہ بات واقع ہو جاتی ہے، جس کی خبر پیشگوئی میں دی گئی ہے۔اور اس تباہی سے بچانے والا سوائے اسلام کے اللہ کے اور کوئی نہیں۔بار بار جھنجھوڑ کر میں نے ان کے کانوں میں یہ بات ڈالی۔اور میں نے اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور اس کے پیار کے ایسے نشانات دیکھے ہیں کہ نہ تو ان کا بیان کرنا، میرے لئے مناسب ہے اور نہ ان کا بیان کرنا، میرے لئے ممکن ہے۔اور میرے اندر خدا تعالیٰ کا خوف اس قدر شدت اختیار کر گیا ہے کہ میں ہر روز ایک لمبا عرصہ دعا کرتارہتا ہوں کہ اے میرے پیار کرنے والے! تو 221